انسانیت سے حیوانیت تک کا سفر۔۔۔ اور کتنا نیچے گریں گے ہم؟

 انسانیت سے حیوانیت تک کا سفر۔۔۔ اور کتنا نیچے گریں گے ہم؟ 💔



آج قلم اٹھاتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور روح ملامت کر رہی ہے۔ کیا واقعی ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں "ممتا" جیسے مقدس لفظ کی ساکھ بھی خطرے میں پڑ گئی ہے؟ 🥀



ایک وقت تھا جب گھر ٹوٹنے سے بچانے کے لیے عورتیں دکھ سہہ لیتی تھیں، اولاد کی خاطر پتھر بن جاتی تھیں۔ مگر آج؟ آج خبریں آتی ہیں کہ لاہور میں ایک ماں نے اپنے تین پھول جیسے بچوں کا گلا گھونٹ دیا۔۔۔ کیوں؟ پہلے کہا گیا سسرال کا ظلم ہے، مرد کی بے حسی ہے۔ لوگوں نے خوب "عورت کارڈ" کھیلا، مرد کو جی بھر کر کوسا۔ مگر سچائی سامنے آئی تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی!



صرف دوسری شادی کی ہوس کے لیے؟ کسی غیر مرد کی خاطر اپنے ہی جگر کے ٹکڑوں کی بلی چڑھا دی؟ 🗡️👶


اس سے پہلے بھی ایک خبر آئی کہ ایک ماں نے اپنے 7 سالہ معصوم بیٹے کو صرف اس لیے مار دیا کہ اس کا دوسرا شوہر اسے قبول نہیں کر رہا تھا۔ توبہ یا رب! کیسی ہوس ہے یہ؟ کیسی سنگدلی ہے؟ 🔥


⚠️ کچھ تلخ سوالات جن کا جواب دینا لازم ہے:


📍 کیا کوئی دوسرا مرد یا کوئی دوسری شادی اتنی اہم ہو سکتی ہے کہ اپنی کوکھ ہی اجاڑ دی جائے؟

 
📍 عدالتیں مائیں ہونے کے ناطے عورت کو حق دیتی ہیں، مگر کیا اس حق کا استعمال سابقہ شوہر کو اذیت دینے یا نسلیں ختم کرنے کے لیے ہونا چاہیے؟

 
📍 ہم مرد کو تو "عادی مجرم" کہہ کر سائیڈ پر کر دیتے ہیں، مگر اب عورتوں کے ہاتھوں گھروں کے اجڑنے اور معصوم جانوں کے جانے کا حساب کون دے گا؟ 🧐


مائیں اپنے ہی بچوں کو نگلنے لگی ہیں۔ جس ماں کے قدموں تلے جنت تھی، وہ خود اپنے ہاتھوں سے زندگیاں جہنم بنا رہی ہے۔ 🚫🔥


میری تمام ایسی بہنوں اور بیبیوں سے گزارش ہے: اگر خون میں حرام اتنا ہی سرایت کر گیا ہے، اگر نفس کی ہوس اتنی ہی بڑھ گئی ہے، تو خدارا خود کو مار لو! ان معصوموں کو کیوں مارتی ہو جن کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے تمہارے پیٹ سے جنم لیا؟


معاشرے کا یہ کینسر اب پھیلتا جا رہا ہے۔ ہمیں جاگنا ہوگا، ورنہ کل کو کوئی بچہ اپنی ماں کی گود میں خود کو محفوظ نہیں سمجھے گا۔ 💔


ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments