صدر چونیاں پولیس کی بڑی کارروائی، 2 ڈکیت گینگ کے 6 ارکان سمیت 8 جرائم پیشہ افراد گرفتار!

 صدر چونیاں پولیس کی بڑی کارروائی، 2 ڈکیت گینگ کے 6 ارکان سمیت 8 جرائم پیشہ افراد گرفتار!

📌 چونیاں (خصوصی نمائندہ): ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر
(ڈی پی او) قصور کی خصوصی ہدایات پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری مہم کے دوران تھانہ صدر چونیاں پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ایس ایچ او غلام صابر کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے روایتی اور جدید سائنسی طریقوں کو بروئے کار لایا جس کے نتیجے میں علاقے میں خوف کی علامت بنے 2 خطرناک ڈکیت گینگ کے 6 سرغنہ سمیت 8 ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔

💼 مالِ مسروقہ اور اسلحہ کی برآمدگی:
تفصیلات کے مطابق پولیس نے کامیاب کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے شہریوں سے لوٹی گئی 13 لاکھ روپے کی نقد رقم، 2 موٹر سائیکل، 5 موبائل فونز اور وارداتوں میں استعمال ہونے والا ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ برآمد کیے گئے مالِ مسروقہ کی مجموعی مالیت تقریباً 15 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔



🔍 جرائم کا طریقہ کار اور اعترافِ جرم:
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان چونیاں اور گردونواح کے علاقوں میں راہزنی، گھروں میں ڈکیتی، موٹر سائیکل چھیننے اور چوری کی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث تھے۔ دورانِ تفتیش ملزمان نے 3 مختلف تھانوں کی حدود میں 14 سے زائد وارداتیں کرنے کا سنسنی خیز اعتراف کیا ہے، جس سے متعدد پرانے مقدمات کو یکسو کرنے میں مدد ملے گی۔

📱 سائنسی بنیادوں پر تفتیش:
ایس ایچ او تھانہ صدر چونیاں کے مطابق ان گینگز کی گرفتاری کے لیے جدید جیو فینسنگ اور سائنٹفک انٹیلیجنس کا سہارا لیا گیا، جس کے باعث ملزمان کا گھیراؤ ممکن ہو سکا۔ ملزمان سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے جس کے دوران مزید اہم برآمدگیوں کی توقع ہے۔

👏 ڈی پی او قصور کی طرف سے پولیس ٹیم کو شاباش:
دوسری جانب ڈی پی او قصور نے خطرناک ڈکیت گینگ کی گرفتاری اور مالِ مسروقہ کی برآمدگی پر ایس ایچ او غلام صابر اور ان کی پوری کی کارکردگی کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔

ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments