ایکٹریس، ڈرامہ اور ڈراپ سین! اسلام آباد سے اغوا ہونے والا شہری خود ہی ماسٹر مائنڈ نکلا!

 ایکٹریس، ڈرامہ اور ڈراپ سین! اسلام آباد سے اغوا ہونے والا شہری خود ہی ماسٹر مائنڈ نکلا!

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت سے مبینہ طور پر اغوا ہو کر کچے کے علاقے میں پہنچنے والے شہری کا سنسنی خیز ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ پولیس کی حالیہ تحقیقات نے کہانی کا رخ یکسر بدل دیا ہے، جس کے مطابق یہ کوئی حقیقی اغوا نہیں بلکہ خود ساختہ ڈرامہ تھا۔ 🎭

🔎 کیا ہے پورا معاملہ؟
پولیس ذرائع کی جانب سے کیے گئے دعوے کے مطابق، ملزم 'نورالدین' نے اپنے دو قریبی دوستوں کے ساتھ مل کر ایک گہری سازش تیار کی۔ اس گروہ نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اغوا کی جعلی ویڈیوز ریکارڈ کیں اور انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔



ڈرامے کے پیچھے اصل مقاصد:
پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس ہائی پروفائل ڈرامے کے پیچھے دو بنیادی مقاصد تھے:
1️⃣ اپنے مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانا۔
2️⃣ لوگوں سے فراڈ کے ذریعے ہتھیا لی گئی بھاری رقوم کی واپسی سے بچنا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نورالدین نے مختلف افراد سے لاکھوں روپے بٹور رکھے تھے اور جب رقم واپسی کا دباؤ بڑھا تو اس نے کچے کے ڈاکوؤں کے نام پر اپنے اغوا کا سوانگ رچا لیا۔

شاندار پولیس کارروائی اور گرفتاریاں:
ایس پی سٹی ایاز اور ان کی ٹیم نے روایتی تفتیش کے بجائے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل فٹ پرنٹس اور ہیومن انٹیلیجنس کا استعمال کیا۔ پولیس نے نیٹ ورک کو ٹریس کرتے ہوئے رحیم یار خان سے مرکزی ملزم نورالدین اور اس کے دونوں سہولت کار ساتھیوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔

پس منظر:
یاد رہے کہ یکم مئی کو تھانہ آبپارہ میں نورالدین کے بھائی سیف الدین کی مدعیت میں ایک مقدمہ درج کرایا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نورالدین کو اسلام آباد کے دل سے اغوا کر کے کچے منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم، پولیس کی مستعدی نے چند ہی دنوں میں اس جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا۔

پولیس نے تمام گرفتار ملزمان کے خلاف دھوکہ دہی، جعلی سازی اور قانون کو گمراہ کرنے کی دفعات کے تحت مزید سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments