سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

 سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

ملتان: 14 اگست 2001 کو دربار بابا تلوار شاہ کے احاطے میں ہونے والے اندھے قتل کا ڈراؤنا ڈراپ سین!




ایک سفاکانہ واردات:
آج سے 25 سال پہلے، عمران عرف مانو نے اپنے ہی دور کے رشتہ دار 25 سالہ محمد نعیم کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ مقتول دو معصوم بچوں کا باپ تھا، جن کے سر سے باپ کا سایہ ہمیشہ کے لیے چھین لیا گیا۔

شناخت بدل کر فرار کا ڈرامہ:
قتل کے بعد عمران عرف مانو نے کمال ہوشیاری سے اپنی پہچان بدلی۔ اس نے دور دراز کے ایک ضلع میں جا کر "محمد سلیم" کے نام سے جعلی شناختی کارڈ بنوایا۔ اس دور میں ٹیکنالوجی کی کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اسی جعلی نام پر بیرون ملک فرار ہونے میں بھی کامیاب ہو گیا!  دھوکے کی انتہا یہ تھی کہ وہ ہر چند سال بعد پاکستان آتا، شادی کی، بچے پیدا ہوئے، مگر قانون کی نظروں سے اوجھل رہا۔

بھائی کا لازوال عزم:
اس کہانی کا سب سے اہم کردار مقتول محمد نعیم کا بھائی "محمد فہیم" ہے۔ جس نے ڈھائی دہائیاں گزرنے کے باوجود ہار نہیں مانی۔ اسے خبر ملتی رہتی تھی کہ قاتل اپنا نام بدل کر دندناتا پھر رہا ہے۔ فہیم نے تمام ثبوت اکٹھے کیے اور ایف آئی اے (FIA) و اعلیٰ حکام کو درخواست دے دی۔

گرفتاری کا لرزہ خیز لمحہ:
جب اداروں نے سائنسی بنیادوں پر چھان بین کی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔ سلیم کے روپ میں چھپا شخص دراصل قاتل عمران ہی نکلا! چند روز قبل جب وہ دوبارہ بیرون ملک بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا، اسے ایئرپورٹ پر دھر لیا گیا۔

انجام کی طرف:
اب قاتل ملتان پولیس کی تحویل میں ہے اور اس پر قتل کے ساتھ ساتھ نادرا ریکارڈ میں جعلسازی کا مقدمہ بھی چلے گا۔ 25 سال بعد ہی سہی، لیکن انصاف کی دستک نے ظالم کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ اتنی دیر بعد ملنے والا انصاف مقتول کے خاندان کے زخم بھر پائے گا؟ اپنی رائے ضرور دیں!
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!