تھانہ بلوچنی کے علاقے میں انسانیت شرما گئی! وڈیرے کا غریب ملازم پر بدترین ظلم!
تھانہ بلوچنی کے علاقے میں انسانیت شرما گئی! وڈیرے کا غریب ملازم پر بدترین ظلم!
افسوسناک خبر: تھانہ بلوچنی کے نواحی علاقے میں ظلم و بربریت کی انتہا ہو گئی! ایک بااثر اور ظالم وڈیرے نے معمولی تلخ کلامی پر اپنے غریب ملازم کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اہل خانہ کے مطابق، وڈیرے نے نہ صرف ملازم کو بے دردی سے پیٹا بلکہ انسانیت کی تذلیل کرتے ہوئے اسے "کتا" بنا کر سرِعام ذلیل و خوار کیا۔ 🐕🤮 یہ سن کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے!
اور ظلم پر ظلم دیکھیں! متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ جب جان بچانے کے لیے 15 پر کال کی گئی، تو پولیس اہلکار موقع پر پہنچا۔ 📞 پر افسوس! انصاف فراہم کرنے اور ظالم وڈیرے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بجائے، مذکورہ پولیس ملازم نے مبینہ طور پر بااثر وڈیرے کی پشت پناہی کی!
🤝 اور معاملے کو دبا کر "رفع دفع" کروا دیا! پولیس اہلکار کی اس مبینہ ملی بھگت سے ملزم کو مزید شہ ملی اور وہ دندناتا پھر رہا ہے۔
متاثرہ ملازم کے اہل خانہ شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں اور انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ انہوں نے روتے ہوئے دہائی دی ہے کہ:
"ہم غریب ضرور ہیں لیکن انسان ہیں۔ ہمارے بچے کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ جانوروں کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پولیس نے ہماری مدد کرنے کے بجائے ظالم کا ساتھ دیا۔"
کیا غریب ہونا جرم ہے؟ کیا انصاف صرف امیروں کے لیے ہے؟ کیا پولیس کا کام ظالم کی پشت پناہی کرنا ہے؟
اہل خانہ کی اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل! ہم سب کو مل کر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی! اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ انصاف مل سکے! 📢🔄
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


Comments
Post a Comment