قانونِِ حیات، ایک سنگین سوال اور ایک معصوم کی دہائی!
قانونِِ حیات، ایک سنگین سوال اور ایک معصوم کی دہائی! 😭😭😭😭
چونیاں کے تھانہ کنگن پور کی حدود سے ایک ایسا وحشیانہ واقعہ سامنے آیا ہے جس نے انسانیت کو شرمندہ کر دیا۔ ایک معصوم 13 سالہ بچی اپنے ہی سوتیلے باپ کے ہاتھوں درندگی کا شکار ہوئی اور حیا سوز زیادتی کا نشانہ بنی۔ 😔😔😔
کہانی اس وقت منظرِ عام پر آئی جب بچی جس گھر میں کام کرتی تھی، وہاں کی مالکن ڈاکٹر صاحبہ نے اس کی حالت میں کچھ تبدیلی محسوس کی۔ انہوں نے بچی کی ماں کو بلا کر تشویش کا اظہار کیا، جس پر بچی نے اپنی ہڈ بیتی سنا دی۔ 💔💔💔
معصوم بچی کا بتانا تھا کہ سوتیلا باپ اسے بچپن سے ہی درندگی کا نشانہ بنا رہا تھا۔ اس نے کئی بار زیادتی کی، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ 😭😭😭😭💔
اس خوفناک انکشاف پر بچی کی ماں نے فوری طور پر تھانے میں مقدمہ درج کروایا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سوتیلے باپ کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم نے اعلیٰ پولیس افسران کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ 👮♂️👮♂️👮♂️👮♂️👮♂️👮♂️🚔🚨
ملزم کا دوران تفتیش کہنا تھا کہ وہ بچپن سے ہی بچی کو غلط کاری کی طرف مائل کر رہا تھا اور اس پر اس کی بری نظر ہمیشہ رہی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ اب افسوس کر رہا ہے کہ شیطان نے اسے حیوان بنا دیا۔ 😈😈😈😈😈😈😭😭😭😭
یہ واقعہ ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں معصوم بچوں کی حفاظت کون کرے گا؟ اور ایسے درندوں کے لیے کیا سزا ہونی چاہیے؟ ⚖️⚖️⚖️⚖️⚙️💔

Comments
Post a Comment