🚨 شیخوپورہ: "سر جی میری شکل دیکھ لیں، میرا یہ حشر میرے شوہر نے کیا ہے..." 💔😢
ایک دہلا دینے والا انکشاف! باپ کا قتل ، ماں ملزمہ، اور 21 سالہ بیٹا اپنی ہی ماں کے خلاف مدعی! 😱⛓️ مانانوالہ کے اس لرزہ خیز واقعے کی ایسی تفصیلات سامنے آئی ہیں جو روح کو کانپا دیں۔
📝 کہانی کے دو رخ، جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیں گے:
👩⚖️ ملزمہ خاتون کا بیان (پہلا رخ):
40 سالہ خاتون، جو چار بچوں کی ماں ہے، کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر محنت مزدوری کرتا تھا لیکن وہ غلط ادویات کا عادی تھا۔ اس کے بقول، اسے شوہر کے فطری اور غیر فطری مظالم کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ خاتون نے الزام لگایا کہ اس نے اپنے والدین کو بھی بتایا، لیکن سب نے اسے "صبر" کرنے اور "گھر بچانے" کا مشورہ دیا، کسی نے مدد نہیں کی۔ 😔🚫
💔 تشدد اور بیچارگی کا سفر:
خاتون نے بتایا کہ شوہر کے مظالم بڑھتے ہی گئے، جس سے تنگ آکر اس نے طلاق مانگی۔ لیکن شوہر نے انکار کر دیا، یہ کہہ کر کہ "بچے رل جائیں گے، میں تمہیں تنگ نہیں کروں گا۔" خاتون خاموش ہو گئی، مگر چند دن بعد وہی تشدد کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔ 😰🔥
🔗 نئے تعلقات اور موت کا منصوبہ:
ان حالات میں، خاتون نے ایک 22 سالہ نوجوان (جو کاریگر تھا اور اچھا کماتا تھا) سے تعلقات استوار کر لیے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے کام آنے لگے۔ شوہر کے جاری مظالم سے تنگ آ کر، ایک روز خاتون نے اس نوجوان سے منت سماجت کی کہ "اس مصیبت سے میری جان چھڑا دو۔" 🤝☠️ دونوں نے مل کر شوہر کو ق۔تل کرنے کا منصوبہ بنایا۔
🌑 وقوعہ کی رات:
منصوبے کے مطابق، خاتون نے شوہر کے کھانے میں بڑی مقدار میں نیند کی گولیاں ملا دیں۔ کھانا کھاتے ہی شوہر بے ہوش ہو کر چارپائی پر لیٹ گیا۔ اس کے بعد، خاتون اور اس کا آشنا مقتول کو موٹرسائیکل پر درمیان میں بٹھا کر قریبی نہر پر لے گئے اور اسے نہر میں دھکا دے دیا۔ 🏍️🌊 وہ واپس گھر آ گئے، اور بچوں کو کچھ پتہ نہ چلا۔ آشنا نوجوان اس رات خاتون کے گھر ٹھہرا اور صبح سویرے نکل گیا۔ 🤫🚪
🔍 پولیس کی تحقیقات اور انکشاف:
اگلے روز دوپہر کو، خاتون نے تھانے جا کر شوہر کی گمشدگی کی درخواست دی۔ پولیس نے شام کو چھان بین شروع کی اور گھر کا معائنہ کیا۔ جب پولیس نے کال ریکارڈ چیک کیے، تو خاتون کے موبائل سے ایک نوجوان کے ساتھ مسلسل رابطے سامنے آئے۔ پوچھ گچھ پر خاتون نے کہا کہ "وہ صرف سبزی سودا لا دیتا ہے،" لیکن پولیس مطمئن نہیں ہوئی۔ 📱👮♂️
⛓️ گرفتاری اور اعتراف جرم:
پولیس نے اس نوجوان کو ٹریس کر کے تھانے لایا اور پوچھ گچھ کی۔ سخت تفتیش پر، اس نے اعتراف کر لیا کہ اس نے خاتون کے ساتھ مل کر اس کے شوہر کو زندہ نہر میں پھینک دیا ہے۔ ملزم کی نشاندہی پر لاش برآمد کی گئی، جس کے بعد خاتون کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ⛓️🌊
⚖️ بیٹا مدعی، ماں ملزمہ:
اس کیس کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ مقتول کا 21 سالہ بڑا بیٹا اب خود مدعی بن گیا ہے اور اپنی ماں کو باپ کے ق۔تل کیس میں سزا دلوانے پر ڈٹ گیا ہے۔ 💔🧑⚖️
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا گھریلو تشدد کا یہ انجام درست تھا یا یہ ایک گھناؤنا جرم ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں! 💬👇

Comments
Post a Comment