سندھ کی بیٹی "شبانہ" اغوا، سسٹم خاموش: بے بس باپ کی دہائیاں ...
💔 سندھ کی بیٹی "شبانہ" اغوا، سسٹم خاموش: بے بس باپ کی دہائیاں! 😭🚨
🛑 "میری بچی کو زبردستی اٹھا کر لے جاتے ہیں اور میں کچھ نہیں کر سکتا" 🛑
یہ الفاظ کسی فلمی منظر کے نہیں، بلکہ سندھ کے شہر دادو (تحصیل مھڑ) کے ایک لاوارث اور مجبور باپ کے ہیں، جس کی چیخیں آسمان کو ہلا رہی ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں تک نہیں پہنچ رہیں۔ 🏚️🥀
❗ واقعہ کی دل دہلا دینے والی تفصیلات:
گذشتہ روز جب شبانہ اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے پیپر دینے جا رہی تھی، تو راستے میں ایک بااثر درندہ "فرید" اپنی بہن کے ساتھ گاڑی میں آیا اور سب کے سامنے شبانہ کو زبردستی اغوا کر کے لے گیا۔ 🚗👣
⚠️ جنون کی انتہا:
معلوم ہوا ہے کہ یہ بااثر شخص آٹھویں کلاس سے اس معصوم بچی کا پیچھا کر رہا تھا۔ بڑی مشکل سے بچی کو ایک مکان سے بازیاب تو کروا لیا گیا، لیکن خوف کا سایہ اب بھی برقرار ہے۔ مجرم کا کہنا ہے کہ "میرا دل اس لڑکی پر آگیا ہے"، کیا اب طاقتور کی پسند کا مطلب غریب کی عزت کی پامالی ہے؟ 🐍🔥
⚖️ پولیس کا شرمناک رویہ:
جب باپ اپنی لٹی ہوئی عزت اور کانپتی بیٹی کو لے کر تھانے پہنچا، تو وہاں انصاف ملنے کے بجائے اسے دھتکار دیا گیا۔ نہ ایف آئی آر کاٹی گئی اور نہ ہی کوئی کارروائی ہوئی۔ 🚔🚫 کیا غریب ہونا جرم ہے؟ کیا دادو کی پولیس بااثر لوگوں کے سامنے اتنی مجبور ہے؟
📢 ہماری اپیل:
ہم ڈی پی او دادو (DPO Dadu) اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس درندہ صفت انسان کو فوری گرفتار کیا جائے اور اس مظلوم خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ 🛡️🤝
آپ سب سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ آواز ایوانوں تک پہنچے۔ آپ کی ایک شیئر کسی کی زندگی اور عزت بچا سکتی ہے! 👇🗣️
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment