شیخوپورہ: 15 سالہ مناہل کا قاتل کون؟ لبان والا کی بیٹی انصاف کی منتظر
شیخوپورہ: 15 سالہ مناہل کا قاتل کون؟ لبان والا کی بیٹی انصاف کی منتظر! 💔😭⚖️
"میری بیٹی تو چلی گئی، لیکن اس کا قاتل عبرت کا نشان بننا چاہیے تاکہ کوئی دوسری بیٹی اس بربریت کا شکار نہ ہو!
" 🤲🩸
یہ الفاظ ہیں اس بدقسمت باپ کے جس کی 15 سالہ پھول جیسی بیٹی "مناہل" کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ شیخوپورہ کے علاقے لبان والا میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے کو وقت گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ 🕵️♂️ پلیس پہلے دن سے متحرک ہے، درجنوں مشکوک افراد کے ڈی این اے (DNA) نمونے لیے گئے، تفتیش جاری ہے، لیکن اصل قاتل اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہے! 🚔 ڈھیروں کوششوں کے باوجود "نامعلوم ملزم" کا معمہ حل نہیں ہو پا رہا۔ 📉🤔
📖 اعتکاف، قرآن اور مناہل کی آخری خواہش:
مقتولہ کے والد نے نم آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ مناہل ایک انتہائی نیک سیرت اور باشرع بچی تھی۔ رمضان سے قبل اس نے خواہش کی تھی کہ "ابو! میں نے اعتکاف بیٹھنا ہے، مجھے بڑے حروف اور ترجمے والا قرآن لا دیں تاکہ تلاوت میں آسانی ہو۔" 🕌✨ وہ بہت خوش تھی، اس نے قرآن پاک کے ختم کیے، علامہ اقبال کی شاعری اور بزرگانِ دین کے قصے اسے زبانی یاد تھے۔ وہ گھر کی رونق تھی، جو اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی ہے۔ 🕯️🥀
🛡️ انصاف اور انسانیت کی اعلیٰ مثال:
شدید دکھ کے باوجود مناہل کے والد کا ظرف دیکھیے! انہوں نے پولیس سے درخواست کی ہے کہ: "میری بیٹی کا قاتل ضرور پکڑا جائے، لیکن میری بیٹی کے غم میں کسی بھی بے گناہ کو ناکردہ جرم کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔" ⚖️ پُر وقار باپ کی یہ اپیل سسٹم اور معاشرے کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ❓📢
آئیں مل کر دعا کریں اور اس آواز کو حکامِ بالا تک پہنچائیں! مناہل کے خون کا حساب ہونا چاہیے۔ انصاف میں تاخیر، انصاف کا قتل ہے۔ ✋📢🗞️

Comments
Post a Comment