سسٹم کی بے حسی یا انسانیت کی تذلیل؟ بھائی اپنی بہن کی "لاش" لے کر بینک پہنچ گیا
سسٹم کی بے حسی یا انسانیت کی تذلیل؟ بھائی اپنی بہن
کی "لاش" لے کر بینک پہنچ گیا
افسوسناک، عجیب اور دل دہلا دینے والا واقعہ! سوشل میڈیا پر اس وقت ایک ایسی خبر گردش کر رہی ہے جس نے دیکھنے والوں کی روح کانپا دی ہے۔ یہ واقعہ پڑوسی ملک بھارت کے ضلع کیونجھر میں پیش آیا جہاں ایک غریب بھائی کو اپنی ہی بہن کی ہڈیاں تھیلے میں بھر کر بینک لانی پڑ گئیں۔
🛑 آخر ایسا کیا ہوا کہ قبر کھودنی پڑی؟ (تفصیلات) 🛑
📍 جیتو منڈا نامی شخص کی بہن "کلارا" کا انتقال ہو چکا تھا، لیکن اس کے اکاؤنٹ میں جمع شدہ 20 ہزار روپے نکلوانے کے لیے جیتو کئی مہینوں سے بینک کے چکر کاٹ رہا تھا۔ 💸
📍 الزام ہے کہ بینک عملے نے بار بار اسے چکر لگوائے اور مبینہ طور پر یہ تک کہہ دیا کہ "اکاؤنٹ ہولڈر (بہن) کو ساتھ لاؤ تبھی رقم ملے گی"۔ 😡
📍 ایک سادہ لوح اور غریب دیہاتی نے اس بات کو دل پر لے لیا۔ وہ سیدھا قبرستان گیا، اپنی بہن کی قبر کھود کر اس کی ہڈیاں نکالیں، ایک تھیلے میں بھریں اور سیدھا بینک کے اندر جا کر میز پر رکھ دیں!
بینک کے اندر کیا منظر تھا؟
جیسے ہی جیتو نے تھیلے سے ہڈیاں نکال کر بینک کے کاؤنٹر پر رکھیں، وہاں موجود عملے اور صارفین کی چیخیں نکل گئیں۔ پورے بینک میں بھگدڑ مچ گئی اور لوگ خوف کے مارے باہر بھاگنے لگے۔
پولیس کو طلب کیا گیا جس کے بعد اب انتظامیہ اس شخص کی قانونی مدد کرنے کی یقین دہانی کرا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا سسٹم اتنا بے حس ہو چکا ہے کہ ایک عام آدمی کو اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے اس حد تک جانا پڑے؟
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا بینک انتظامیہ کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے؟ کمنٹس میں اپنی قیمتی رائے ضرور دیں! ✍️👇
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment