کراچی: انسانیت سوز واقعہ، خواجہ سرا کو اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا .
کراچی: انسانیت سوز واقعہ، خواجہ سرا کو اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا!
💔 کیا ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا محفوظ نہیں؟ رئیس امروہوی کالونی سے اغوا، تشدد اور لوٹ مار کی سنگین واردات! 💔
📍 مقام: کراچی (رئیس امروہوی کالونی / فقیر کالونی)
🔍 واقعے کی لرزہ خیز تفصیلات:
کراچی میں ایک خواجہ سرا کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی، تشدد اور لوٹ مار کا انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خواجہ سرا نے سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ:
🔹 وہ ایک فیملی فنکشن میں شرکت کے لیے رئیس امروہوی کالونی گئی تھیں جہاں 25 مسلح افراد نے انہیں اغوا کر لیا۔ 😱
🔹 ملزمان انہیں تھانہ اقبال مارکیٹ کی حدود میں واقع کپڑے کے ایک گودام میں لے گئے جہاں انہیں محبوس رکھا گیا۔ ⛓️
🔹 متاثرہ خواجہ سرا کے مطابق، 7 درندہ صفت ملزمان نے انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ 🛡️😭
💰 لوٹ مار اور بلیک میلنگ:
متاثرہ فرد نے الزام عائد کیا ہے کہ زیادتی کے دوران نہ صرف ان پر وحشیانہ تشدد کیا گیا بلکہ:
✅ ان کی قابل اعتراض ویڈیوز بنائی گئیں۔ 📱
✅ سونے کی چین اور نقد رقم بھی چھین لی گئی۔ 💸⚠️
📢 اپیل اور انصاف کا مطالبہ:
متاثرہ خواجہ سرا کا کہنا ہے کہ اس مشکل گھڑی میں وہ خود کو تنہا محسوس کر رہی ہیں، یہاں تک کہ برادری کے بعض افراد بھی ملزمان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ 🕯️👣
متاثرہ نے معروف ایکٹوسٹ شہزادی رائے سے رابطے کی کوشش کی ہے اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ:
1️⃣ ان 7 ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے جنہیں وہ پہچانتی ہیں۔ 🚔
2️⃣ انصاف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ 🛑👊
❓ سوالِ عام:
کیا کسی کی جنس یا شناخت اسے ظلم کا نشانہ بنانے کا لائسنس فراہم کرتی ہے؟ آخر کب تک معاشرے کے اس طبقے کو ایسے مظالم کا سامنا کرنا پڑے گا؟ 🛡️⚖️
💬 اپنی رائے دیں: ایسے درندہ صفت ملزمان کے لیے کیا سزا ہونی چاہیے؟ اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ اعلیٰ حکام تک آواز پہنچ سکے۔ 👇
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment