تڑپتی ماں، بلکتی بیٹیاں اور بے حسی کا نشانہ بنتا انصاف!
تڑپتی ماں، بلکتی بیٹیاں اور بے حسی کا نشانہ بنتا انصاف!
لاہور کے نشتر روڈ کا 34 سالہ ٹیکسی ڈرائیور فیاض مسیح،
جو دو ماہ پہلے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب لے کر
سواری کے ساتھ سندھ گیا تھا، آج ایک کرائے کے مکان میں مٹی تلے دفن ملا۔
ذرا سوچئیے! ان چھوٹی چھوٹی معصوم بچیوں کا کیا قصور
تھا جو دو ماہ سے اپنے بابا کی راہ تک رہی تھیں؟ اس بوڑھی ماں کا کیا قصور تھا جس کی امید آج ہمیشہ کے لیے ٹوٹ
گئی؟ 🕊️🕯️
💰 محض ایک گاڑی چھیننے کی خاطر ان "بااثر" اور "اونچے
طبقے" کے درندوں نے ایک ہنستے بستے گھر کا چراغ گل کر دیا۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار تو کر لیا ہے اور اعترافِ جرم بھی ہو چکا ہے، لیکن کیا غریب فیاض کے خون کو انصاف ملے گا؟ یا ان ملزمان کا "اثر و رسوخ" ایک بار پھر جیت جائے گا؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فیاض مسیح کے قاتلوں کو سرِعام عبرتناک سزا دی جائے تاکہ کل کوئی اور درندہ کسی غریب کی زندگی سے کھیلنے کی ہمت نہ کر سکے۔ ‼️👊
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment