راولپنڈی: دروالہ کے چوہدریوں کا ہنستا بستا گھرانہ کیسے اجڑا؟

 

🔥 راولپنڈی: دروالہ کے چوہدریوں کا ہنستا بستا گھرانہ کیسے اجڑا؟ 💔

راولپنڈی کے علاقے دروالہ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے کے پیچھے چھپی اصل کہانی اب منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ فرخ کھوکھر نے اس تنازعے اور صلح کی ناکام کوششوں کے حوالے سے ایسے انکشافات کیے ہیں جو معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ 🗣️👇




🛑 صلح کی کوششیں اور فسادیوں کا کردار:
فرخ کھوکھر کا کہنا ہے کہ وہ چوہدری زبیر اور چوہدری تنویر کے درمیان صلح کے لیے دن رات ایک کر چکے تھے۔ 🌙 کئی بار دونوں فریقین کو ایک میز پر بٹھایا گیا، مذاکرات ہوئے اور بہت سے مسائل حل بھی ہو چکے تھے۔ دونوں فریق صلح کی طرف مائل تھے، مگر کچھ "کمینہ صفت" لوگوں کو یہ امن ہضم نہ ہوا۔ 🐍🚫

⚖️ جلتی پر تیل ڈالنے والے کون؟
فرخ کھوکھر کے بقول، کچھ ایسے لوگ اس تنازعے کے درمیان گھس گئے جن کی روزی روٹی ہی ان دونوں گھرانوں کی دشمنی سے وابستہ تھی۔ 💸 یہ لوگ ایک فریق کی بات سن کر مرچ مصالحہ لگا کر دوسرے کو بتاتے اور دوسرے کی بات میں اپنی طرف سے کہانیاں گھڑ کر پہلے فریق کو اشتعال دلاتے۔ ان ضمیر فروشوں نے اپنی "دیہاڑیاں" لگانے کے چکر میں دو خاندانوں کے درمیان نفرت کی آگ کو ٹھنڈا نہ ہونے دیا۔ 🏚️🔥

🥀 ایک ادھوری حسرت اور بڑا نقصان:
کاش! اس وقت کوئی ایک فریق صبر کا دامن تھام لیتا تو آج یہ بستی صفِ ماتم میں نہ ڈوبی ہوتی۔ 😭 آج دونوں گھروں میں صرف پچھتاوا ہے کہ ان فسادیوں نے ہمارے بستے گھر اجاڑ دیے۔ افسوس کہ جذبات کی رو میں بہہ کر ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ 🕊️

🤲 دعا ہے کہ اللہ کریم تمام مرحومین کے درجات بلند فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کے ساتھ ساتھ عقل و دانش سے فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ آمین! تھمہ بیج بو کر فصل کاٹنے والوں سے بچنا ہی اصل دانائی ہے۔ 🙏✨


ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!