جھنگ کے علاقے چناب پارک سے ایک انتہائی دلخراش اور انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے معاشرے کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ماں نے اپنے ہی سوتیلے بیٹے کے خلاف اپنی معصوم بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کروا دیا ہے
انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ - جھنگ میں انسانیت شرمسار
جھنگ کے علاقے چناب پارک سے ایک انتہائی دلخراش اور انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے معاشرے کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ماں نے اپنے ہی سوتیلے بیٹے کے خلاف اپنی معصوم بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کروا دیا ہے۔
فراہم کردہ ایف آئی آر (FIR نمبر: 418/26، تھانہ صدر جھنگ) کے مطابق، متاثرہ بچی کی والدہ نے پولیس کو بیان دیا کہ وہ فوتگی پر گئی ہوئی تھیں جب گھر واپس آئیں تو بیٹی کو روتے ہوئے چیخ و پکار کرتے ہوئے پایا۔ دروازہ کھولنے پر ملزم اپنی سوتیلی بہن کے ساتھ فعلِ خلاف وضع فطری کر رہا تھا، جو والدہ کو دیکھ کر کمرے سے فرار ہو گیا۔ اس ہولناک واقعے کے بعد انہوں نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا۔
---
⚖️ **فوری ایکشن اور گرفتاری:**
تھانہ صدر جھنگ کی پولیس نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری کارروائی کی۔ متاثرہ بچی کی والدہ کی مدعیت میں زیر دفعہ 376iii (زیادتی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ڈی پی او جھنگ کی خصوصی ہدایات پر، ایس ایچ او تھانہ صدر کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے فوری چھاپہ مار کر ملزم شہریار کو گرفتار کر لیا۔
💉 متاثرہ بچی کا میڈیکل معائنہ ڈی ایچ کیو ہسپتال سے کروایا جا رہا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، ملزم سے تفتیش جاری ہے اور چالان مکمل کر کے جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ اسے قرار واقعی سزا مل سکے۔
یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے، جہاں رشتوں کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ جھنگ پولیس نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی مکمل یقین دہانی کروائی ہے۔ ایسے گھناؤنے جرائم کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment