لاہور کے علاقے اچھرہ میں دل دہلا دینے والا واقعہ افسوسناک اور لرزہ خیز انکشافات نے سب کو ہلا کر رکھ دیا!
لاہور کے علاقے اچھرہ میں دل دہلا دینے والا واقعہ
افسوسناک اور لرزہ خیز انکشافات نے سب کو ہلا کر رکھ دیا!
وہ ماں جس کے قدموں تلے جنت ہے، اسی نے اپنے ہاتھوں سے اپنے تین معصوم پھولوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا! 🥀
🔍 کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟ تفتیش میں سامنے آنے والے سنسنی خیز حقائق:
ملزمہ ردا کا اعترافِ جرم: دورانِ تفتیش ردا نے بتایا کہ اس نے اپنے ہی بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے باری باری ان کی جان لی۔ پہلے ڈیڑھ سالہ معصوم بچی کو بیڈ پر قتل کیا، پھر بیٹے کو دوسرے کمرے میں لے جا کر اس کی شہ رگ کاٹ دی، اور آخر میں اپنی بڑی بیٹی کو بھی موت کے حوالے کر دیا! 🔪
قتل کے بعد کی سنگدلی: معصوم بچوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے بعد ملزمہ نے آرام سے کپڑے تبدیل کیے، گھر کو تالا لگایا اور باہر چلی گئی! پولیس کو جائے وقوعہ سے صوفے کے پاس سے دو چھریاں ملیں جبکہ ایک چھری کچن میں دھو کر رکھی گئی تھی۔
🕵️♂️ شوہر پر سنگین الزامات: ملزمہ کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر اسے غیر مردوں سے فون پر بات کرنے اور پیسے مانگنے پر مجبور کرتا تھا، جس کی وجہ سے وہ اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ پولیس کو ملزمہ کے "یار" شہریار کے فون سے 746 کالز کا ریکارڈ بھی ملا ہے! 📱👮♂️
💔 بے بسی یا سفاکی؟ ملزمہ کے مطابق طلاق کے بعد کوئی بچوں کو سنبھالنے والا نہیں تھا اور اس کے میکے والوں نے بھی بچوں کو رکھنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ 🏚️ اب سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ثبوتوں کی روشنی میں سی آئی ڈی (CID) معاملے کی مزید گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے۔
اللہ پاک ان معصوم بچوں کو جنت میں جگہ عطا فرمائے اور ہمیں ایسی آزمائشوں سے بچائے۔ آمین! 🤲
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


Comments
Post a Comment