سبحان اللہ! پنڈی بھٹیاں کے ظہیر عباس کی وہ کہانی جو آپ کے رونگٹے کھڑی کر دے گی
سبحان اللہ! پنڈی بھٹیاں کے ظہیر عباس کی وہ کہانی جو آپ کے رونگٹے کھڑی کر دے گی
ایک طرف باپ کی بیماری ، دوسری طرف چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری اور تعلیم کا بوجھ ۔ جب والد نے کہا: "بیٹا! پڑھائی چھوڑو، کماؤ اور اپنے بھائیوں کو پالو،" تو بڑے بیٹے نے سر جھکا کر 'جی ابا جی' کہہ دیا۔
کمانے کے لیے قلم چھوڑا اور 'استرا' پکڑ لیا! ✂️ نائی کی دکان پر کام سیکھا، دن بھر لوگوں کی حجامت بناتے اور شام کو جو پیسے ملتے اس سے گھر کا چولہا بھی جلتا اور بہن بھائیوں کی فیسیں بھی جاتی تھیں۔
لیکن اس نوجوان کے حوصلے تو دیکھئے! جب حالات تھوڑے سنبھلے تو پرائیویٹ اکیڈمی سے اپنی ادھوری پڑھائی کا سلسلہ پھر شروع کیا۔ محنت رنگ لائی، پہلے ایم اے کیا اور پھر وہ دن بھی آیا جب ظہیر عباس نے ایم فل (M.Phil) مکمل کر لیا!
آج ظہیر عباس ایک پرائیویٹ کالج میں 'لیکچرر' ہیں! لیکن اصل حیرت کی بات تو اب شروع ہوتی ہے...
وہ صبح کالج میں بچوں کو پڑھاتے ہیں اور شام کو وہی 'حجام' والی دکان کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں: "استاد جی! اب آپ کو یہ نائی والا کام زیب نہیں دیتا، اب آپ کی شان اور عزت بڑی ہے!" 🤐
مگر ظہیر عباس کا جواب سنئے: "جس کام نے مجھے اس مقام تک پہنچایا، جس حلال رزق نے میرے بہن بھائیوں کو کامیاب کیا، میں اسے کیسے چھوڑ دوں؟" ❤️
سچ تو یہ ہے کہ محنت میں کوئی شرم نہیں، شرم تو مانگنے اور حرام کھانے میں ہے۔ 💯
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا ایک پروفیسر کو شام میں اپنی دکان چلانی چاہئے یا لوگوں کی باتوں میں آ کر اسے بند کر دینا چاہئے؟ اپنی قیمتی رائے کمنٹس میں ضرور دیں! 👇✍️
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment