افسوسناک خبر: ساہیوال میں درندگی، دو دوستوں نے 14 سالہ طالب علم کو ہوس کا نشانہ بنا ڈالا!
افسوسناک خبر: ساہیوال میں درندگی، دو دوستوں نے 14 سالہ طالب علم کو ہوس کا نشانہ بنا ڈالا! 🔞
ساہیوال (تازہ ترین تفصیلات)
شہر کے علاقے پرانی لکڑ منڈی میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں دو نوجوانوں نے دوستی کے رشتے کو داغدار کرتے ہوئے اپنے ہی 14 سالہ دوست منیب الرحمٰن کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔ درندوں نے نہ صرف ظلم کیا بلکہ معصوم کی ویڈیو بھی بنا لی۔ 💔
واقعے کے ہولناک حقائق:
متاثرہ لڑکے کی والدہ خدیجہ نیاز کے مطابق، 3 مئی کی رات عثمان قریشی اور حامد علی نامی ملزمان منیب کو "سنوکر" کھیلنے کے بہانے گھر سے بلا کر لے گئے تھے۔ جب بچہ رات دیر تک واپس نہ آیا تو گھر والوں کی جان پر بن آئی۔
درندگی کی انتہا :
ملزمان نے طالب علم کو باری باری اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس کی نازیبا ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔ بعد ازاں، معصوم بچے کو نیم بے ہوشی اور تشویشناک حالت میں اس کے گھر کے گیٹ پر پھینک کر فرار ہو گئے۔ اسپتال میں طبی معائنے کے دوران بچے کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پولیس ایکشن اور گرفتاریاں:
تھانہ فتح شیر پولیس نے عوامی دباؤ اور قانونی کارروائی کے بعد مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایس ایچ او کے مطابق، دونوں نامزد ملزمان عثمان قریشی اور حامد علی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف دفعہ 376 اور 292 کے تحت تفتیش جاری ہے۔
عوامی مطالبہ:
ساہیوال کے شہریوں نے اس وحشیانہ واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان درندوں کو سرعام عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی ہمت نہ کر سکے۔
آپ کے خیال میں ایسے ملزمان کو کیا سزا ملنی چاہیے؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں اور اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ یہ آواز حکام بالا تک پہنچ سکے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment