ملتان میں لرزہ خیز سانحہ: خودکشی یا قتل؟ حاملہ ماں اور 3 بچوں کی لاشیں ملنے کا معمہ!
ملتان میں لرزہ خیز سانحہ: خودکشی یا قتل؟ حاملہ ماں اور 3 بچوں کی لاشیں ملنے کا معمہ!
ملتان کے علاقے ممتاز آباد پھاٹک کے قریب پیش آنے والے اس دردناک واقعے نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ ایک ہی گھر سے حاملہ خاتون اور اس کے تین معصوم بچوں کی پنکھے سے لٹکی لاشیں ملنے پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ 💔
واقعے کی اہم اور افسوسناک تفصیلات: 👇
گھر کے اندر سے لاشیں ملنے پر اہل محلہ نے فوری طور پر لاشوں کو نیچے اتارا اور 1122 کو اطلاع دی، مگر افسوس کہ ماں اور بچے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔ 🚑 پسماندگان کے مطابق گھر میں اکثر جھگڑا رہتا تھا، جس کی تصدیق اہل محلہ نے بھی کی کہ شوہر اپنی بیوی کو اکثر زدوکوب کرتا تھا اور ہمسائے بیچ بچاؤ کرواتے تھے۔ پچھلے کچھ عرصے سے خاتون شدید ذہنی دباؤ اور حالات سے تنگ تھی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہولناک انکشاف!
بچوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کا رخ بدل دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کو پہلے گلا دبا کر مارا گیا اور پھر رسی سے لٹکایا گیا۔ یہ بات واضح ہے کہ چھوٹے بچے خودکشی نہیں کر سکتے، یہ سیدھا سیدھا قتل کا معاملہ نظر آتا ہے۔ ⚠️❌
باپ کا اعتراف اور جنازے پر رقت آمیز مناظر:
پولیس نے مقتولہ کے شوہر کو حراست میں لے رکھا ہے۔ اگرچہ اس نے جھگڑوں کا اعتراف کیا ہے، لیکن قتل کی بات سے صاف انکار کر رہا ہے۔ ملزم شوہر کو پولیس کی نگرانی میں بیوی اور بچوں کے جنازے میں لایا گیا، جہاں وہ اپنے بچوں کا آخری دیدار کر کے دھاڑیں مار کر روتا رہا۔
تفتیش کے دو رخ: 🤔💭
1️⃣ کیا ظالم باپ نے ہی جھگڑے کے بعد اپنی حاملہ بیوی اور بچوں کو بے دردی سے قتل کر کے خودکشی کا رنگ دیا؟
2️⃣ یا پھر حالات سے تنگ ماں نے اپنی زندگی ختم کرنے سے پہلے یہ سوچا کہ بچوں کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہوگا، اس لیے انہیں قتل کر کے خود پھندہ لگا لیا تاکہ شوہر بھی عمر بھر کٹہرے میں رہے؟
پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے اور امید ہے کہ جلد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اصل قاتل کوئی بھی ہو، اسے قانون کے کٹہرے میں ضرور لایا جائے گا!
آپ کے خیال میں اس ہولناک واقعے کا ذمہ دار کون ہے؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں۔ 👇👥
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment