بہاولنگر کی سکینہ بلوچنی کا ہولناک انتقام: جب ممتا نے "خونی جشن" منایا!

 بہاولنگر کی سکینہ بلوچنی کا ہولناک انتقام: جب ممتا نے "خونی جشن" منایا!

پنجاب کی تاریخ کا وہ لرزہ خیز واقعہ جس نے 1995 میں پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک ایسی ماں کی جس نے اپنے بیٹے کے خون کا بدلہ لینے کے لیے پورا خاندان اجاڑ دیا اور پھر 7 بکرے ذبح کر کے جشن بھی منایا!




واقعے کا پس منظر:
بہاولنگر کے زمیندار نذر محمد اکوکا کی دو بیویاں تھیں۔ سکینہ بلوچنی (دوسری بیوی) کا بڑا بیٹا مظہر فرید علاقے کا ہر دلعزیز نوجوان تھا۔ یہی شہرت اس کے سوتیلے بھائیوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگی اور انہوں نے حسد میں آکر مظہر کو قتل کر دیا۔

ممتا کا مطالبہ اور انتقام کی آگ:
بیٹے کی موت نے سکینہ کو جیتے جی مار دیا۔ جب کیس عدالت میں چلا تو سکینہ نے اپنے باقی تین بیٹوں کو دودھ کی قسم دے کر کہا: "اگر بھائی کے خون کا بدلہ نہ لیا تو تم میرے بیٹے نہیں!"

یکم رمضان 1995 کا وہ خونی دن:
بہاولنگر اور بہاولپور کے سرحدی علاقے کٹاریاں کے قریب، ایک قیدی وین پر گھات لگائے بیٹھے مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملہ آوروں نے وین کے اندر جا کر ایک ایک زخمی کو دوبارہ گولیاں ماریں تاکہ کوئی زندہ نہ بچے۔ اس حملے میں 9 افراد لقمہ اجل بنے۔

تھانے میں ماتم، حویلی میں لڈیاں:
پولیس جب تفتیش کے لیے سکینہ کے گاؤں پہنچی تو منظر دیدنی تھا۔ ایک طرف 9 جنازے اٹھ رہے تھے تو دوسری طرف سکینہ بلوچنی خوشی سے لڈیاں ڈال رہی تھی! 💃 بدلہ پورا ہونے کی خوشی میں 7 بکرے ذبح کیے گئے تاکہ پورے علاقے کو کھانا کھلایا جا سکے۔

سیاسی دباؤ اور انجام:
اس کیس میں ملزمان کا تعلق اس وقت کے "وزیراعلیٰ" کے قریبی حلقوں سے تھا، جس کی وجہ سے پولیس پر شدید دباؤ آیا۔ مگر سابق ایس پی سید جماعت علی بخاری کی ٹیم نے مکمل تفتیش کی اور ملزمان کو گرفتار کیا۔ عدالتوں نے سزائیں سنائیں، سپریم کورٹ تک اپیلیں گئیں، اور کئی سالوں بعد صلح پر اس خونی داستان کا خاتمہ ہوا۔

کیا آپ کے خیال میں ایک ماں کا اپنے بیٹے کے قاتلوں سے ایسا انتقام لینا درست تھا؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں.
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!