میں کس کا مجرم ہوں اور میرا مجرم کون ہے؟ ڈسٹرکٹ جیل قصور سے ایک دل دہلا دینے والی کہانی!

 میں کس کا مجرم ہوں اور میرا مجرم کون ہے؟ ڈسٹرکٹ جیل قصور سے ایک دل دہلا دینے والی کہانی!

قصور کی ڈسٹرکٹ جیل میں بند 60 سالہ قیدی "محمد وکیل سرور" کی یہ کہانی سن کر آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں گی۔ یہ ایک ایسے بوڑھے باپ کی داستان ہے جو بے گناہی اور بیماری کے باوجود سزائے موت کی چکی میں پس رہا ہے۔ 💔



ایک لڑائی اور تقدیر کا ظالمانہ کھیل:
ساڑھے چار سال قبل وکیل سرور کے بھائی کی کسی سے لڑائی ہوئی، جس میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔ وکیل سرور، جو اس وقت شدید بیمار تھے اور شوگر کے مرض کی وجہ سے بمشکل چل پاتے تھے، انہیں بھی بھائی کے ساتھ نامزد کر کے گرفتار کر لیا گیا۔

اصل مجرم کی موت اور بے گناہ پر بوجھ:
کچھ ہی ہفتوں بعد اصل مجرم (بھائی) جیل میں ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گیا، لیکن کیس کا سارا بوجھ بے گناہ وکیل سرور پر ڈال دیا گیا۔ مدعی فیملی کی ضد اور حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ اب عدالت نے اس بوڑھے اور بیمار شخص کو سزائے موت سنا دی ہے۔

دو گھرانے لاوارث، 10 بچوں کا مستقبل داؤ پر:
وکیل سرور کے اپنے 6 بچے ہیں اور وفات پا جانے والے بھائی کے 4 بچے۔ آج ان دونوں گھروں کی خواتین محنت مزدوری کر کے 10 یتیم اور بے سہارا بچوں کا پیٹ پال رہی ہیں۔ بھائی تو چلا گیا، مگر پورے خاندان کو زندہ درگور کر گیا۔ 🥀

رحم کی اپیل اور آپ کی دعا کی اپیل:
اس وقت ہائیکورٹ میں رحم کی اپیل زیرِ سماعت ہے۔ ایک بوڑھا باپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے انصاف کا منتظر ہے۔ کیا بیماری کی حالت میں محض نامزدگی کی بنیاد پر ایک بے گناہ کو پھانسی ہونی چاہیے؟

اللہ کریم وکیل سرور کی مشکلات آسان فرمائے اور انہیں اپنے بچوں کے سر پر سلامت رکھے۔ آمین! یا رب العالمین۔

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں اپنی دعا اور رائے ضرور لکھیں!
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!