فیصل آباد کے آر پی او (RPO) سہیل اختر سکھیرا کے دفتر میں ایک ایسی خاتون کی دہائی، جس نے افسران سمیت سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا!
سر جی! میرے شوہر سے میری جان چھڑوا دیں...
فیصل آباد کے آر پی او (RPO) سہیل اختر سکھیرا کے دفتر میں ایک ایسی خاتون کی دہائی، جس نے افسران سمیت سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا!
🔥 ایک مجبور ماں کا دکھ:
برسوں کی رفاقت، جوان ہوتے بچے، اور ایک ایسا شوہر جو باہر منہ مارنے" کی اپنی پرانی لت سے باز نہ آیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ پہلے تو صبر کیا، لیکن اب بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ "کل کو کس منہ سے بیٹوں کا رشتہ مانگوں گی؟ کون ہماری بیٹی بیاہنے آئے گا جب پوری برادری کو اس کی کرتوتوں کا علم ہے؟
معاشی جبر کی داستان:
خاتون نے انکشاف کیا کہ تحفظ کے نام پر اس کے پاس کچھ نہیں۔ 15 تولے زیور بھی شوہر نے کاروبار کے بہانے ہڑپ کر لیا، گھر بھی شوہر کے نام پر ہے اور وہ صرف گھر کا دال دلیہ پورا کرتا ہے۔ اپنوں نے سمجھایا، والد نے منت کی، لیکن وہ "میسنا" بن کر ہنس دیتا ہے اور چند دن بعد پھر وہی رنگ رلیاں! 💃🚫
آر پی او سہیل اختر سکھیرا کا مخلصانہ مشورہ:
خاتون طلاق چاہتی تھی، لیکن سکھیرا صاحب نے ایک پولیس افسر کے بجائے ایک "بڑے بھائی" اور "والد" کے روپ میں مشورہ دیا:
بیٹا! طلاق نہ لو۔ اپنے گھر میں جم کر بیٹھی رہو۔ مرد کے بغیر بچوں والی عورت اور باپ کے سائے کے بغیر بچوں کی زندگی میں سو مسائل ہوتے ہیں۔
انہوں نے سمجھایا کہ ابھی تمہارے نام پر کچھ نہیں، حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ "جاؤ، کچھ ہفتے سوچو، پھر بھی دل نہ مانے تو آ جانا، جو تم چاہو گی وہی ہو گا۔"
🤔 اب سوال آپ سے ہے!
کیا آر پی او صاحب کا یہ مشورہ کہ "نباہ کرو" درست ہے؟ یا کیا ایک عورت کو ایسی ذلت آمیز زندگی سے فوری چھٹکارا پا لینا چاہیے؟
اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں!
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment