حجرہ شاہ مقیم میں اغوا ہونیوالے نوجوان کی مکئی کے کھیت سے مسخ شدہ لاش برآمد!
حجرہ شاہ مقیم میں اغوا ہونیوالے نوجوان کی مکئی کے کھیت سے مسخ شدہ لاش برآمد!
حجرہ شاہ مقیم (خصوصی رپورٹر) تھانہ ڈھلیانہ کی حدود میں دل دہلا دینے والا واقعہ، کئی روز سے لاپتہ 13 سالہ نوجوان کی لاش کھیتوں سے ملنے پر علاقے میں کہرام مچ گیا۔ خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔
🔎 دلخراش واقعہ اور شناخت کی لرزہ خیز تفصیلات:
ذرائع کے مطابق، حجرہ شاہ مقیم کے نواحی علاقے تھانہ ڈھلیانہ کی حدود ’جھوک 2 ڈی‘ میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب مقامی زمینداروں نے مکئی کے سرسبز کھیتوں میں ایک نوجوان کی بے گور و کفن لاش دیکھی۔
اطلاع ملتے ہی مقامی افراد کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہو گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، برآمد ہونے والی لاش کی شناخت "زاہد" کے نام سے ہوئی ہے، جو گزشتہ کئی روز سے لاپتہ تھا۔ لاش ملنے کی خبر جیسے ہی گھر پہنچی تو کہرام مچ گیا اور مقتول کے والدین غم سے نڈھال ہو گئے۔ اتنے کمسن نوجوان کی اس بے دردی سے موت نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔
اغوا کا مقدمہ اور پولیس کی ابتدائی کارروائی:
تفصیلات کے مطابق، مقتول زاہد کو 13 مئی کو مبینہ طور پر نامعلوم ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کے بعد مغوی کے والد کی مدعیت میں 16 مئی کو تھانہ ڈھلیانہ میں باقاعدہ طور پر اغوا کا مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا، لیکن افسوس کہ پولیس نوجوان کو زندہ سلامت بازیاب کرانے میں ناکام رہی۔ 💔 بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملزمان نے نوجوان کو اغوا کرنے کے بعد بے دردی سے قتل کیا اور لاش کو چھپانے کی غرض سے مکئی کے گھنے کھیتوں میں پھینک دیا۔
قانون حرکت میں آ گیا: تفتیش کا آغاز:
واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ ڈھلیانہ پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے کرائم سین کو سیل کر کے لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اراضی اور شواہد اکٹھے کرنے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ موت کی اصل وجہ (کاز آف ڈیتھ) سامنے آ سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام زاویوں سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور بہت جلد ملزمان کو ٹریس کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
اس لرزہ خیز قتل نے ایک بار پھر علاقے میں امن و امان کی صورتحال اور بچوں کے تحفظ پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوام کا اعلیٰ حکام سے فوری انصاف کا مطالبہ۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment