جیکب آباد میں پسند کی شادی کی خوفناک سزا، لڑکی کی برادری نے پورے گاؤں کو آگ لگا دی!
جیکب آباد میں پسند کی شادی کی خوفناک سزا، لڑکی کی برادری نے پورے گاؤں کو آگ لگا دی! 💥🔥
وحشت کی انتہا نوبیاہتا جوڑے کی دہائی قانون حرکت میں آگیا
📍 جیکب آباد (خصوصی رپورٹ)
تحصیل ٹھل میں پسند کی شادی کرنے پر مبینہ طور پر لڑکی کی برادری کے مشتعل افراد نے قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے لڑکے کے پورے گاؤں کو آگ لگا دی، جس کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی اور خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
⚡ "ہم نے کوئی جرم نہیں کیا!" — مظلوم جوڑے کا اعلیٰ حکام سے انصاف کا مطالبہ:
سفاکانہ کارروائی کے بعد روپوش شادی شدہ جوڑے نے اعلیٰ حکام سے فوری تحفظ اور انصاف کی اپیل کر دی ہے۔ جوڑے کا موقف ہے کہ انہوں نے حیدرآباد کی معزز عدالت میں اپنی آزاد مرضی اور پسند سے شادی کی ہے۔ لڑکے کا کہنا ہے:
> "ہم نے کسی کو اغواء نہیں کیا، نہ ہی کوئی سونا یا قیمتی سامان چوری کیا ہے۔ ہم نے صرف اپنا قانونی اور شرعی حق استعمال کیا ہے، جس کی سزا اب ہمارے پورے گاؤں کو دی جا رہی ہے۔" 💔 دستاویزی ثبوتوں کے باوجود انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
👧 "میں بالغ ہوں، اغواء کا الزام جھوٹا ہے" — نوبیاہتا دلہن کا لرزہ خیز بیان:
لڑکی نے اپنے گھر والوں کے تمام دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ:
"مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا اور نہ ہی مجھ پر کوئی دباؤ ہے۔ میں اپنی مرضی سے اپنے شوہر کے ساتھ آئی ہوں۔ میرے گھر والوں نے مجھے کم عمر ظاہر کرنے کا سراسر غلط اور جھوٹا الزام لگایا ہے تاکہ اس قانونی شادی کو سبوتاژ کیا جا سکے اور ہمیں جانی نقصان پہنچایا جا سکے۔"
پولیس کا بڑا ایکشن — 30 افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج:
اس لرزہ خیز واقعے کے بعد علاقہ پولیس فوری طور پر متحرک ہو گئی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق گاؤں کو آگ لگانے اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے کے سنگین جرم میں ملوث چنہ برادری کے 30 افراد کے خلاف باقاعدہ طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کو امن و امان خراب کرنے یا غیر قانونی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
💬 آپ کی کیا رائے ہے؟
پسند کی شادی کرنے پر پورے گاؤں کو جلا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ کیا لڑکی کے گھر والوں کا یہ اقدام غیرت کے نام پر وحشیانہ ظلم نہیں؟ کمنٹس سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار کریں اور اس آواز کو آگے پہنچانے کے لیے پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں!
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment