قصور پولیس میں اعلیٰ سطح پر اکھڑ پچھاڑ، ڈی پی او آفتاب احمد پھلروان کا بڑا ایکشن!
بڑی تبدیلی: قصور پولیس میں اعلیٰ سطح پر اکھڑ پچھاڑ، ڈی پی او آفتاب احمد پھلروان کا بڑا ایکشن!
قصور (خصوصی نمائندہ) امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) قصور، آفتاب احمد پھلروان نے ضلع بھر میں انتظامی سطح پر اہم اور بڑی تبدیلیاں کر دیں۔
تفصیلات کے مطابق، ڈی پی او قصور نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فرض شناسی کے لیے مشہور، قصور پولیس کے تین انتہائی قابل اور مایہ ناز انسپکٹرز کو نئی اہم ذمہ داریاں سونپ دی ہیں، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
🔄 تعیناتیوں اور تبادلوں کی تفصیلات:
1️⃣ انسپکٹر محمد اسلم بھٹی (فخرِ قصور پولیس):
عوام کے مابین بہترین ساکھ رکھنے والے انسپکٹر محمد اسلم بھٹی کو ان کی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر تھانہ چھانگا مانگا سے تبدیل کر کے اب "ایس ایچ او صدر پھولنگر" تعینات کر دیا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ پھولنگر کے شہریوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگی۔
2️⃣ انسپکٹر چوہدری ادریس چدھڑ:
جرائم کے خاتمے کے لیے ہمہ وقت متحرک رہنے والے انسپکٹر چوہدری ادریس چدھڑ کو صدر پھولنگر سے منتقل کر کے "ایس ایچ او تھانہ مصطفیٰ آباد" کی اہم ترین ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ 🛡️ ان کی تعیناتی سے علاقے میں اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
3️⃣ انسپکٹر ملک جبار:
اپنے سخت اور مخلصانہ اندازِ کار کی وجہ سے پہچانے جانے والے ملک جبار کو "ایس ایچ او منڈی عثمان والا" تعینات کیا گیا ہے۔ ان کا بنیادی ٹاسک علاقے کو امن کا گہوارہ بنانا اور قانون کی بالادستی قائم کرنا ہوگا۔
🎯 ڈی پی او قصور کا عزم:
ڈی پی او آفتاب احمد پھلروان کا کہنا ہے کہ "ان تبدیلیوں کا مقصد تھانہ کلچر کو تبدیل کرنا اور شہریوں کو دہلیز پر انصاف فراہم کرنا ہے۔ فرض شناس افسران کی تعیناتی سے ضلع میں جرائم کی شرح کو صفر پر لایا جائے گا۔" 🤝
شہریوں اور سماجی حلقوں نے ڈی پی او قصور کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نئے تعینات ہونے والے افسران عوامی توقعات پر پورا اتریں گے۔ 📢✨
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment