ملازمت کا جھانسہ، بلیک میلنگ اور جعلی نکاح نامہ! پولیو ورکر حسنہ شبیر کے ساتھ ہولناک زیادتی کا انکشاف، متاثرہ خاندان انصاف کے لیے سڑکوں پر!
خان پور: ملازمت کا جھانسہ، بلیک میلنگ اور جعلی نکاح نامہ! پولیو ورکر حسنہ شبیر کے ساتھ ہولناک زیادتی کا انکشاف، متاثرہ خاندان انصاف کے لیے سڑکوں پر!
خان پور (خصوصی رپورٹر) محکمہ صحت میں مستقل ملازمت دلوانے کے نام پر معصوم لڑکی کی زندگی برباد کرنے اور بااثر ملزم کی جانب سے بلیک میلنگ کا ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے۔
📍 سادات کالونی کی رہائشی حسنہ شبیر نے اپنی والدہ اور والد کے ہمراہ میڈیا کے سامنے روتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستاں بیان کر دی۔ ملزم نے نہ صرف نشہ آور مشروب پلا کر لڑکی کی عزت لوٹی بلکہ نازیبا ویڈیوز بنا کر اسے مسلسل حبسِ بے جا اور حرام کاری پر مجبور کیا۔
⚠️ نوکری کا جھانسہ اور پہلا وار!
متاثرہ لڑکی حسنہ شبیر کے مطابق، مجید کالونی کے رہائشی 'نعیم علوی' نامی شخص نے اسے محکمہ صحت میں پکی نوکری لگوانے کا لالی پاپ دیا اور اسی بہانے اپنے گھر بلایا۔ وہاں لڑکی کو کوئی نشہ آور چیز پلا کر بے ہوش کر دیا گیا اور اس کی بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور موقع کی برہنہ ویڈیوز بھی بنا لی گئیں۔
ویڈیو کی آڑ میں بلیک میلنگ اور حاملہ ہونا! 🤰
پہلی واردات کے بعد ملزم کا دل نہ بھرا، وہ نازیبا ویڈیو دکھا کر حسنہ کو بار بار بلیک میل کرتا رہا اور بدنامی کے ڈر سے لڑکی خاموشی سے یہ ظلم سہتی رہی۔ مسلسل زیادتی کے نتیجے میں جب حسنہ حاملہ ہو گئی، تو شاطر ملزم نے بچنے کے لیے ایک اور چال چلی۔ اس نے سفید کاغذات پر لڑکی کے زبردستی انگوٹھے لگوائے اور ایک 'جعلی نکاح نامہ' تیار کر لیا۔ 🎭
عدالت اور مونسپل کمیٹی کا چونکا دینے والا انکشاف!
ملزم نے عدالت میں 491 کی رٹ پٹیشن دائر کی، جہاں ایڈیشنل سیشن جج کے روبرو لڑکی نے کھل کر بیان دیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہے۔ اس کے بعد ملزم نے الٹا لڑکی کے والدین پر 'حمل ضائع' کرنے کا جھوٹا الزام لگا کر ایک اور کیس کر دیا۔
جب لڑکی کے والد محمد شبیر حسین نے مونسپل کمیٹی سے اس نکاح نامے کی تصدیق کروائی، تو پتا چلا کہ اس نام کا کوئی قاضی یا رجسٹرار سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا! یعنی پورا نکاح نامہ سراسر جعل سازی کا شاہکار تھا۔
پولیس کی پراسرار خاموشی اور اعلیٰ حکام سے اپیل!
متاثرہ لڑکی کے والد نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے زنا اور جعل سازی کی دفعات کے تحت کارروائی کے لیے سٹی پولیس خان پور کو تحریری درخواست دے رکھی ہے، مگر 5 دن گزرنے کے باوجود بااثر ملزم کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، جس سے پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔
متاثرہ حسنہ شبیر اور اس کے مظلوم والدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور ڈی پی او رحیم یار خان سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی ہے کہ:
1️⃣ ملزم نعیم علوی کو فوراً گرفتار کیا جائے۔
2️⃣ اس کے قبضے سے بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہونے والی ویڈیوز برآمد کی جائیں۔
3️⃣ غریب خاندان کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment