لاہور میں سنسنی خیز ہنی ٹریپ! شہریوں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہی جرائم پیشہ افراد کے سہولت کار بن گئے!
لاہور میں سنسنی خیز ہنی ٹریپ! شہریوں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہی جرائم پیشہ افراد کے سہولت کار بن گئے!
لاہور (خصوصی رپورٹر) صوبائی دارالحکومت کے علاقے کوٹ لکھپت میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ماتھے پر ایک اور داغ لگ گیا۔ خواجہ سراؤں کی جانب سے پولیس اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے معصوم شہری کو ہنی ٹریپ کا شکار بنانے کا ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد محکمہ پولیس میں شدید کھلبلی مچ گئی ہے۔
🔎 جال کیسے بچھایا گیا؟ ہولناک تفصیلات:
ذرائع کے مطابق، قصور کے رہائشی ایک سادہ لوح شہری کو خواجہ سراؤں نے اپنے جھانسے اور محبت کے جال میں پھنسایا اور کوٹ لکھپت کے علاقے میں واقع ایک فلیٹ پر ملاقات کے بہانے بلایا۔ شہری جیسے ہی فلیٹ پر پہنچا، وہاں پہلے سے موجود دیگر خواجہ سراؤں نے اسے یرغمال بنا لیا۔ مقتول نما متاثرہ شہری پر بدترین تشدد کیا گیا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور اس کی جیب میں موجود 40 ہزار روپے کی نقدی بے دردی سے چھین لی گئی۔ وحشیانہ تشدد کے بعد ملزمان نے شہری کو واش روم میں بند کر دیا۔
محافظ ہی ڈاکو بن گئے! 'کارخاص' کا شرمناک کردار:
واقعہ میں سنسنی خیز موڑ اس وقت آیا جب کچھ ہی دیر بعد فلیٹ پر چار پولیس اہلکار پہنچے۔ خواجہ سراؤں نے متاثرہ شہری کو ان اہلکاروں کے حوالے کر دیا۔ خود کو ایس ایچ او کوٹ لکھپت کے 'کارخاص' کہلوانے والے ان پولیس اہلکاروں نے شہری کی مدد کرنے کے بجائے اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، قانونی کارروائی کا خوف دلایا اور ڈرا دھمکا کر اس کے شناختی کارڈ کی کاپی اور مزید 11 ہزار روپے نقدی چھین کر اسے فارغ کیا۔
قانون حرکت میں آ گیا: مقدمہ درج، گرفتاریاں شروع:
محکمہ پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑانے والے اپنے ہی پیٹی بھائیوں اور خواجہ سراؤں کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اب تک کی تازہ ترین پیش رفت کے مطابق:
* کانسٹیبل وقاص، کانسٹیبل سلیمان، کانسٹیبل عمیر اور کانسٹیبل عرفان کو حراست میں لے کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
* ملوث خواجہ سراؤں کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
* مبینہ طور پر اہلکاروں کی سرپرستی کرنے کے شبہ میں ایس ایچ او کوٹ لکھپت کے خلاف بھی اعلیٰ سطحی انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محکمے میں کالی بھیڑوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلائی جائے گی۔ سلگتے ہوئے اس واقعے نے ایک بار پھر پولیس ریفارمز اور شہریوں کے تحفظ پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment