منڈی بہاؤالدین کے ہولناک ترین 'پنجگانہ قتل' کی وہ سچی داستان جو آپ کے رونگٹے کھڑے کر دے گی!
سگریٹ پر سگریٹ اور قاتل بے نقاب!
منڈی بہاؤالدین کے ہولناک ترین 'پنجگانہ قتل' کی وہ سچی داستان جو آپ کے رونگٹے کھڑے کر دے گی!
چوہدری ریاض احمد پڈھیار (ریٹائرڈ ڈی ایس پی) جب 2017 میں تھانہ سول لائن منڈی بہاؤالدین میں بطور ایس ایچ او تعینات تھے، تو انہوں نے محض اپنی عقابی نظر اور تجربے کی بنیاد پر ایک ایسا اندھا قتل کیس ٹریس کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔
وہ ہولناک رات اور 5 لاشیں!
رات کے ٹھیک 12 بجے پولیس ہیلپ لائن 15 پر ایک چیخ و پکار والی کال آتی ہے۔ پتا چلتا ہے کہ مرالہ قصبہ میں ایک ڈیرے پر کام کرنے والے مزدور خاندان کے 5 افراد کو سوتے ہوئے کلہاڑیوں کے وار کر کے بے دردی سے ذبح کر دیا گیا ہے!
مقتولین میں میاں بیوی، ان کی 20 سالہ جوان بیٹی اور 2 معصوم بچے شامل تھے۔ ستم ظریفی دیکھیں کہ اسی خاندان کا ایک لڑکا، جو ذرا دور جانوروں کے پاس سویا ہوا تھا، معجزاتی طور پر بچ گیا۔
سرگودھا کا کنکشن اور روتے ہوئے رشتہ دار!
ایس ایچ او ریاض پڈھیار چونکہ پہلے سرگودھا میں رہ چکے تھے، انہوں نے فوراً وہاں کی پولیس سے رابطہ کیا اور مقتولین کے لواحقین کا پتا لگایا۔ راتوں رات مقتولہ خاتون کے پہلے شوہر سے سگے بیٹے اور ان کا ماموں روتے پیٹتے منڈی بہاؤالدین پہنچ گئے۔
معلوم ہوا کہ خاتون نے پہلے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کی تھی، جس پر جوان بیٹے ناراض تھے اور وہ اپنے ماموں کے پاس سرگودھا رہتے تھے، جبکہ ماں اپنی جوان بیٹی اور نئے شوہر کے ساتھ یہاں رہ رہی تھی۔
تجربہ کار پولیس افسر کی 'ظالم آنکھ' کا کمال!
اگلی صبح ہسپتال میں پوسٹ مارٹم ہو رہا تھا۔ باہر درختوں کے سائے میں لاشیں پڑی تھیں اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ مگر ڈی ایس پی (تب کے ایس ایچ او) ریاض پڈھیار کی نظریں کچھ اور دیکھ رہی تھیں۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ مقتولہ کے دو سگے جوان بیٹے، جو سرگودھا سے آئے تھے، شدید گرمی اور دکھ کے ماحول میں بھی 'سگریٹ پر سگریٹ' سلگا رہے تھے! اور جیسے ہی کوئی پولیس اہلکار ان کے قریب سے گزرتا، وہ کن اکھیوں سے چور نظروں سے پولیس کو دیکھتے اور ان کے چہروں پر گھبراہٹ صاف دکھائی دیتی۔
بس! تجربہ کار افسر کے دماغ میں گھنٹی بج گئی کہ دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے!
ٹیکنالوجی کا جال اور چونکا دینے والا انکشاف!
مقدمہ درج ہوا، لواحقین لاشیں لے کر سرگودھا روانہ ہو گئے، لیکن جانے سے پہلے ایس ایچ او کی ہدایت پر محرر نے چپکے سے سب کے فون نمبر نوٹ کر لیے۔
جب ان نمبرز کی جیو فینسنگ اور کال ڈیٹا (CDR) نکلوایا گیا تو سب کے ہوش اڑ گئے!
واردات کی رات ان سگے بیٹوں اور ماموں کی لوکیشن منڈی بہاؤالدین کے اسی مقتل گاہ کے پاس آرہی تھی اور ان کے درمیان مسلسل رابطے بھی موجود تھے۔
🎭 فلمی اسٹائل میں گرفتاری کا پلان! 🚔 لنکا ڈھائی!
ملزمان کو شک نہ ہو، اس لیے پولیس نے ایک شاطرانہ گیم کھیلی۔ سرگودھا میں لواحقین کو فون کیا گیا کہ "ڈی پی او صاحب تعزیت کے لیے آپ کے گھر آ رہے ہیں، سب کو جمع رکھیں۔
ایک فیشن ایبل، بابو قسم کے نوجوان تھانیدار کو نقلی ڈی پی او بنا کر، ایلیٹ فورس کے ساتھ سرگودھا بھیجا گیا۔ تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد جیسے ہی واپسی کا وقت آیا، ریاض پڈھیار کے اشارے پر پولیس نے ان تینوں مشکوک افراد (دو سگے بیٹے اور ماموں) کو گاڑی میں بٹھا لیا۔ باقی رشتہ دار سمجھے کہ پولیس تفتیش میں مدد کے لیے لے جا رہی ہے۔ 🤫
5 منٹ کی 'محنت' اور روح کانپنے والا اعترافِ جرم!
قریبی تھانے لے جا کر جب ان کے سامنے کال ڈیٹا اور لوکیشن کا ریکارڈ رکھا گیا، تو صرف 5 منٹ کے اندر ان کا غرور ٹوٹ گیا اور انہوں نے جو سچی کہانی سنائی، اس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا:👇
کچھ عرصہ پہلے مقتولہ جوان لڑکی نے اپنے بھائیوں کو روتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کا سوتیلا باپ اس پر بری نظر رکھتا ہے۔ بھائی غیرت کے نام پر ماموں کے ساتھ منڈی بہاؤالدین آئے تاکہ بہن کو واپس لے جائیں۔ لیکن وہاں سوتیلا باپ بھڑک اٹھا اور ماں نے بھی بیٹی کو بھیجنے سے انکار کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر ماں کے دباؤ میں آکر لڑکی بھی اپنے بیان سے مکر گئی۔ 😲💔
بس یہی دکھ، غصہ اور شرمندگی 'خوفناک انتقام' میں بدل گئی۔ انہوں نے گاڑی کرائے پر لی، رات کے اندھیرے میں ڈیرے پر پہنچے اور کلہاڑیوں کے پے در پے وار کر کے اپنی ماں، سوتیلے باپ، اسی بہن (جسے بچانے آئے تھے) اور دو معصوم بچوں کو ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلا دیا! اپنے سگے بھائی کو انہوں نے جان بوجھ کر چھوڑ دیا کیونکہ وہ ان کا اپنا خون تھا۔
حقیقت سامنے آنے پر ملزمان کو چالان کر کے عدالت بھیجا گیا جہاں آج بھی یہ ماموں بھانجے اپنے انجام کا انتظار کر رہے ہیں۔
سلام ہے چوہدری ریاض احمد پڈھیار صاحب کی اس عقابی نظر پر، جنہوں نے ایک سگریٹ کی چنگاری سے اتنا بڑا اندھا قتل کیس حل کر دیا!
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment