اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی کو سزائے موت کا حکم، دوستی کے بھیس میں چھپے دشمن کا عبرتناک انجام!

 سنسنی خیز انکشافات: سینیٹ ملازم حمزہ خان کے ہولناک قتل کی مکمل کہانی!  اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی کو سزائے موت کا حکم، دوستی کے بھیس میں چھپے دشمن کا عبرتناک انجام!

📌 اسلام آباد / مانسہرہ (خصوصی انویسٹی گیشن رپورٹ): وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آبپارہ کی حدود سے لاپتہ ہونے والے سینیٹ آف پاکستان کے نوجوان ملازم حمزہ خان کے اغوا اور بے رحمانہ قتل کے ہائی پروفائل کیس کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔  ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے جرم ثابت ہونے پر مرکزی ملزم اور اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی عارف حسین شاہ کو سزائے موت کی عبرتناک سزا سنا دی ہے۔  کچے دھاگے سے بندھی دوستی کا مقتول کو کیا معلوم تھا کہ وہ جسے اپنا جگری دوست اور اس کے والد کو محافظ سمجھ رہا ہے، وہی اس کی موت کا پروانہ تیار کر رہے ہیں۔



💼 لین دین کا تنازع اور سحری کے وقت آخری رابطہ:
مقتول حمزہ خان، جن کا تعلق ضلع ایبٹ آباد کے خوبصورت علاقے گلیات سے تھا، سینیٹ میں اسسٹنٹ کے عہدے پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں اور پراپرٹی کی خرید و فروخت کا کاروبار بھی کرتے تھے۔  گزشتہ برس 15 مارچ کو حمزہ یہ بتا کر گھر سے نکلے کہ وہ مانسہرہ میں اپنے بچپن کے دوست کے والد (سابق ایس پی عارف شاہ) سے رقم کے لین دین کے دیرینہ تنازعے کو حل کرنے جا رہے ہیں۔ مقتول نے گھر والوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ افطار کے بعد یا اگلی صبح تک لوٹ آئیں گے۔ 16 مارچ کی صبح سحری تک گھر والوں کا حمزہ سے رابطہ رہا، لیکن صبح 5 بجے کے بعد اچانک ان کا موبائل فون بند ہو گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔

گمشدگی کا مقدمہ اور سابق ایس پی کا جھوٹا اعتراف:
حمزہ کے اچانک لاپتہ ہونے پر ان کے بھائی محمد وقار کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ میں گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا۔ جب مقتول کے لواحقین نے مانسہرہ میں ان کے دوست اور سابق ایس پی عارف شاہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کمال عیاری سے کہانی گھڑی کہ 'انہوں نے حمزہ کو خاکی کے علاقے سے اسلام آباد کے لیے روانہ کر دیا تھا اور وہ مزید کچھ نہیں جانتے۔ تاہم، بھائی وقار نے پولیس کو تحریری بیان دیا کہ 11 مارچ کو چھٹہ بختاور میں حمزہ کا ان ملزمان کے ساتھ شدید جھگڑا اور تلخ کلامی ہوئی تھی، جس پر شک کی بنیاد پر پولیس نے سابق ایس پی اور ان کے بیٹے کو حراست میں لے لیا۔  دباؤ کے باوجود ملزمان کافی دن تک پولیس کو گمراہ کرتے رہے اور اپنی لاعلمی کا راگ الاپتے رہے۔

گوبر کے ڈھیر سے لاش برآمد، ظلم کی داستان:
پردہ اس وقت چاک ہوا جب اسلام آباد پولیس نے مانسہرہ پولیس کے ہمراہ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے سابق ایس پی عارف شاہ کے مانسہرہ والے گھر پر چھاپہ مارا اور وہاں گڑھے میں مٹی اور گوبر کے نیچے دفن کی گئی حمزہ خان کی مسخ شدہ لاش برآمد کر لی۔  ڈی آئی جی اسلام آباد جواد طارق نے پریس کانفرنس میں سنسنی خیز انکشاف کیا کہ سابق ایس پی نے اپنے ہی بہنوئی کے ساتھ مل کر حمزہ کو اپنے گھر کے اندر گولی مار کر قتل کیا تھا۔  ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق حمزہ کو سر کے پیچھے گولی ماری گئی تھی، جبکہ مقتول کے بھائی محمد وقار کا کہنا تھا کہ لاش پر وحشیانہ تشدد کے واضح نشانات تھے، سامنے کے دانت ٹوٹے ہوئے تھے اور چہرہ لہولہان تھا۔

⚖️ عدالت کا تاریخی فیصلہ:
سابق پولیس افسر ہونے کے باوجود قانون کی گرفت سے ملزم بچ نہ سکا۔ پولیس نے آلہ قتل اور تمام ٹھوس شواہد عدالت میں پیش کیے۔ تفصیلی سماعتوں اور گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد، سیشن کورٹ نے سابق ایس پی عارف حسین شاہ کو سینیٹ ملازم کے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنا دی، جس پر عوامی اور صحافتی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!