100 چھتر کھا کر بھی خاموش! جب ایک ضدی چور نے پولیس کے چھکے چھڑا دیے!
100 چھتر کھا کر بھی خاموش! جب ایک ضدی چور نے پولیس کے چھکے چھڑا دیے!
پاکستان پولیس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ پتھروں سے بھی سچ اگلوا لیتی ہے، لیکن سابق پولیس افسر عزیز اللہ خان نے اپنے 30 سالہ کیریئر کا ایک ایسا واقعہ سنایا ہے جو آپ کو حیران کر دے گا!
📍 واقعہ کیا تھا؟
جنوبی پنجاب کے ایک تھانے میں کورائی قبیلے کے ایک شخص کو مویشی چوری کے الزام میں لایا گیا۔ الزام تھا کہ وہ برسوں سے وارداتیں کر رہا ہے لیکن کبھی قابو نہیں آیا۔ جب پولیس نے اسے پکڑا تو وہ صاف مکر گیا۔ 🐂🚫
تشدد اور ضدی ملزم:
عزیز اللہ خان بتاتے ہیں کہ سچ اگلوانے کے لیے روایتی طریقہ اپنایا گیا۔ 5 پولیس والوں نے باری باری اسے 100 سے زائد چھتر مارے، لیکن اس شخص کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی۔ جب پولیس والے تھک گئے تو اس ملزم نے وہ بات کہی جو آج بھی پولیس افسر نہیں بھولے!
میں اپنے پیو دا نئیں جے بولاں!
ملزم نے تھانیدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
تھانیدار صاحب! بے شک میری جان لے لو، لیکن میں اپنے باپ کا نہیں اگر کچھ مانوں۔ ہاں، اگر سچ منوانا ہے تو یہ ماچس میرے ہاتھ میں دے دو، پھر دیکھو میں مانتا ہوں یا نہیں۔
تفتیشی نظام اور انسانی حقوق:
عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ آج بھی پاکستان میں تفتیش کے جدید طریقے عام نہیں ہو سکے۔ تھانوں میں تشدد کا سلسلہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو ہے، لیکن پولیس کا دعویٰ ہے کہ 98 فیصد کیسز میں ملزمان بغیر 'سختی' کے سچ نہیں اگلتے۔
کیا پولیس کو تفتیش کے لیے تشدد کا سہارا لینا چاہیے یا اب نظام بدلنے کا وقت آ گیا ہے؟ آپ کی اس واقعے پر کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں!
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment