بیٹیاں بوجھ نہیں، اللہ کی رحمت اور والدین کا فخر ہوتی ہیں!
بیٹیاں بوجھ نہیں، اللہ کی رحمت اور والدین کا فخر ہوتی ہیں!
اللہ کریم ہر ماں باپ کو ایسی ہی لائق اور فرمانبردار بیٹی دے! شیخوپورہ کے چھوٹے سے گاؤں "جھبراں" کی ایک متوسط گھرانے کی بیٹی مہوش نور نے سی ایس ایس (CSS) کا امتحان پاس کر کے اسسٹنٹ کمشنر بن کر پورے علاقے کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ 🏅✨
🎓 تعلیمی سفر کی جدوجہد:
مہوش نور نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں کے پرائمری سکول سے حاصل کی، میٹرک شیخوپورہ سے کیا اور پھر ایف ایس سی کے لیے فیصل آباد گئیں۔ گریجویشن کے بعد ان کا رخ لاہور کی طرف ہوا جہاں انہوں نے 2025 میں سی ایس ایس کا امتحان دیا اور آج اللہ کے فضل اور ماں باپ کی دعاؤں سے وہ اسسٹنٹ کمشنر بن چکی ہیں۔ ✍️📚
💡 کامیابی کا اصل راز:
مہوش نور نے ان تمام طلباء کے لیے ایک اہم پیغام دیا ہے جو سمجھتے ہیں کہ سی ایس ایس کے لیے 18، 18 گھنٹے پڑھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
"فریش ذہن کے ساتھ چند گھنٹوں کی معیاری پڑھائی بھی کافی ہوتی ہے۔ ذہنی اور جسمانی صحت تباہ کر کے حاصل کی گئی کامیابی کسی کام کی نہیں، الٹا انسان دماغی امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔" 🧠💡
❤️ والدین کا فخر:
مہوش کے والد اپنی بیٹی کی کامیابی پر نہال ہیں، ان کا کہنا ہے کہ "بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں، اگر اولاد کو لقمہ حلال کھلایا جائے تو یہی بیٹیاں والدین کا مان بن جاتی ہیں۔" 💖
دعا ہے کہ اللہ پاک مہوش نور کو عام عوام کا غمخوار افسر بنائے اور انہیں غریبوں کے مسائل حل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ کیونکہ افسر تو بہت ہیں، مگر عوام کا دکھ بانٹنے والے بہت کم!
آپ کی اس عظیم کامیابی پر کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں مبارکباد ضرور دیں!
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment