لہو رنگ داستان: مظفری بھٹی اور عارف بھٹی کی دوستی اور دشمنی کا وہ دور جب پنجاب کانپ اٹھتا تھا!
لہو رنگ داستان: مظفری بھٹی اور عارف بھٹی کی دوستی اور دشمنی کا وہ دور جب پنجاب کانپ اٹھتا تھا!
یہ کہانی ہے ان دو دوستوں کی جن کی یاری کی مثالیں آج بھی شیخوپورہ اور گردونواح کے ڈیروں پر دی جاتی ہیں۔ مظفر خان عرف "مظفری بھٹی" (کلسیاں بھٹیاں، خانقاہ ڈوگراں) اور ان کے سائے کی طرح ساتھ رہنے والے دوست عارف حسین بھٹی۔
دشمنی کا آغاز اور 50 جنازے:
مظفری بھٹی کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا، لیکن تقدیر نے انہیں قلم کی جگہ کلاشنکوف تھما دی۔ اپنی ہی برادری سے نسل در نسل چلنے والی وہ جدی پشتی دشمنی، جس نے دونوں طرف کے 50 سے زائد جوانوں کو قبرستان پہنچا دیا۔ کہتے ہیں مظفری بھٹی نے پہلا قتل تب کیا جب وہ نویں کلاس کے طالب علم تھے۔
روپوشی اور اشتہاری زندگی:
30 سال تک اشتہاری رہنے والے مظفری بھٹی جب "علاقہ غیر" سے واپس آئے تو اپنے ساتھ وہ جدید اسلحہ لائے جو اس وقت پنجاب پولیس کے پاس بھی نہ تھا۔ فیصل آباد کے وڑائچ گروپ کی حمایت ہو یا پولیس سے درجنوں ٹاکرے، مظفری بھٹی کا نام دہشت اور بہادری کی علامت بن گیا۔
💰 20، 20 لاکھ کا انعام:
1982 میں حکومت نے ان دونوں دوستوں کے سروں کی قیمت 20، 20 لاکھ روپے مقرر کی (جو اس دور میں کروڑوں کے برابر تھی)۔ پولیس کے ساتھ خونی مقابلے، تھانیداروں کی شہادتیں اور ایک اعلیٰ شخصیت کی لینڈ کروزر چھیننے کا واقعہ... اس گروہ نے حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچا دی تھی۔ 🏎️⚠️
دوستی کی بے مثال روایت:
مظفری اور عارف بھٹی کی محبت کا عالم یہ تھا کہ جب عارف کا بیٹا ہوا تو اسے مظفری نے گود لیا، اور جب مظفری کا بیٹا ہوا تو اسے عارف بھٹی نے پالا۔ خون کے رشتوں سے بڑھ کر یہ دوستی تاریخ کا حصہ بن گئی۔
🥀 انجام اور صلح کا پیغام:
مظفری بھٹی ایک خونی مقابلے میں اپنے ساتھیوں سمیت مارے گئے، جبکہ عارف حسین بھٹی درجنوں گولیاں لگنے کے باوجود معجزانہ طور پر بچ گئے، جیل کاٹی اور پھر بزرگوں کی مداخلت سے ہونے والی "صلح" کے بعد 1992 میں رہا ہو کر گھر آئے۔
آج اس خاندان میں سکون ہے، کیونکہ دشمنی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اللہ پاک اس صلح کو قائم رکھے اور ہمیں انتقام کی آگ سے بچائے۔ آمین۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment