فیصل مسجد کے فٹ پاتھ سے ارب پتی بزنس مین بننے تک: سلیم کی وہ کہانی جو آپ کے آنسو روکنے نہیں دے گی!
فیصل مسجد کے فٹ پاتھ سے ارب پتی بزنس مین بننے تک: سلیم کی وہ کہانی جو آپ کے آنسو روکنے نہیں دے گی!
اسپیشل رپورٹ: اسلام آباد کی خوبصورت فیصل مسجد کے باہر، جہاں روز ہزاروں لوگ سکون کی تلاش میں آتے ہیں، وہاں کئی سال پہلے ایک 10 سال کا بچہ سردی اور گرمی کی پرواہ کیے بغیر فٹ پاتھ پر بیٹھا رہتا تھا۔ پرانا ڈبہ، کالے رنگ کی پالش، اور ہاتھوں میں برش... یہ تھا سلیم! 👞
حالات کی بے رحمی دیکھئے کہ والد کے اچانک انتقال کے بعد، گھر کا چولہا جلانے کی ذمہ داری اس ننھے کندھوں پر آ گئی۔ پورے دن میں صرف 300 سے 400 روپے کمانے والا یہ لڑکا لوگوں کے جوتے چمکاتا تھا، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان میلے ہاتھوں کے پیچھے کتنا روشن دماغ چھپا ہے۔ 🧠
ہاتھ میلے ہوں تو کوئی بات نہیں، دماغ روشن رکھو!
یہ وہ الفاظ تھے جو ایک مہربان استاد نے سلیم کو کہے اور اسے کچھ پرانی کتابیں دیں۔ لوگ مذاق اڑاتے تھے، طنز کرتے تھے کہ "جوتے پالش کرنے والا بھی کبھی بڑا آدمی بنے گا؟" مگر سلیم خاموشی سے رات کے اندھیرے میں، مدہم لائٹس کے نیچے پڑھتا رہا۔ اس کا صرف ایک ہی خواب تھا... اپنی چھوٹی بہن ماریہ کو ڈاکٹر بنانا!
پھر وہ معجزہ ہوا جس نے سب کو حیران کر دیا! ⚡
سلیم نے ایف ایس سی (FSc) میں 98% نمبر حاصل کر کے سب کے منہ بند کر دیے۔ 🎓 اس کی زندگی کی جمع پونجی صرف 1 لاکھ 80 ہزار روپے تھی، ماں روتی رہی کہ گھر کیسے چلے گا، لیکن سلیم نے تاریخی جواب دیا: اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔
کامیابی کا سفر اور آئی ٹی کا انقلاب!
یونیورسٹی کے بعد سلیم نے ایک چھوٹے سے کمرے اور 3 پرانے لیپ ٹاپس سے آئی ٹی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ پہلا سال ناکامیوں اور قرضوں سے بھرا تھا، لیکن جس نے فٹ پاتھ پر ہار نہیں مانی، وہ یہاں کیسے ہار جاتا؟ 5 سال کی شدید محنت کے بعد اس کی بنائی ہوئی ایپ پورے پاکستان میں مقبول ہو گئی۔
آج کا سلیم:
🔹 عمر: 29 سال 🧔
🔹 مقام: اسلام آباد میں اپنا شاندار ہیڈ آفس 🏢
🔹 ٹیم: 200 سے زائد ملازمین 👥
🔹 اور سب سے بڑا خواب؟ ماریہ اب پمز (PIMS) ہسپتال میں ایک کامیاب ڈاکٹر ہے!
آج بھی جب سلیم کی چمکتی ہوئی گاڑی فیصل مسجد کے پاس سے گزرتی ہے، وہ وہاں رکتا ہے۔ کسی بھی جوتے پالش کرنے والے بچے کو دیکھ کر اپنی گاڑی سے اترتا ہے، اس کے پاس بیٹھتا ہے اور اپنا کارڈ دے کر کہتا ہے: "جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری خواب چمکانا ہے۔ جب بھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔"
سلیم کہتا ہے: "لوگ کہتے ہیں میں ارب پتی ہوں، لیکن میں آج بھی وہی لڑکا ہوں، بس اب میرے خواب بھی میرے ساتھ چمکتے ہیں۔"
سلیم کی یہ سچی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات جتنے بھی برے ہوں، اگر آپ کے ارادے سچے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment