سکھر میں قانون کی دھجیاں اڑا دی گئیں: غیرت کے نام پر غیرقانونی جرگہ، انکار پر نوجوان کے قتل کا حکم!
سکھر میں قانون کی دھجیاں اڑا دی گئیں: غیرت کے نام پر غیرقانونی جرگہ، انکار پر نوجوان کے قتل کا حکم!
سکھر (خصوصی رپورٹر) سندھ میں ایک بار پھر نام نہاد غیرت اور کارو کاری کے فرسودہ نظام نے سر اٹھا لیا۔ سکھر کے نواحی علاقے میں غیرت کے نام پر منعقد ہونے والے ایک انتہائی خطرناک اور غیرقانونی جرگے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے، جہاں پنچایت نے مبینہ طور پر ایک نوجوان کے خاندان پر بھاری جرمانہ (رونی) عائد کیا اور حکم نہ ماننے پر اسے موت کے گھاٹ اتارنے کا ظالمانہ فیصلہ سنا دیا۔
🔎 سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل اور قانون حرکت میں:
ذرائع کے مطابق، اس غیرقانونی جرگے کی کارروائی کی خفیہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اعلیٰ حکام اور عوام میں ہلچل مچا دی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح سرِعام قانون کا مذاق اڑاتے ہوئے انسانی جان کا سودا کیا جا رہا تھا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے فوراً بعد سکھر پولیس نے معاملے کا سخت نوٹس لیا اور فوری ایکشن میں آگئی۔ 📱 نظامِ انصاف کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔
🔒 پولیس کی دھواں دھار کارروائی: 8 ملزمان دھر لیے گئے!
ایس ایس پی سکھر اظہر مغل کے مطابق، پولیس نے قانون کی بالادستی قائم کرتے ہوئے واقعے کا باقاعدہ مقدمہ 12 نامزد ملزمان کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر جرگے میں سرگرمِ عمل شریک 8 کلیدی افراد کو ہتھکڑیاں لگا دی ہیں، جبکہ باقی روپوش ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ ملوث افراد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
فرسودہ رسومات اور امن و امان کا سوال:
ایس ایس پی اظہر مغل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ "سندھ میں کسی متوازی عدالتی نظام یا غیرقانونی پنچایت کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ معصوم شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔" اس واقعے نے ایک بار پھر صوبے میں جاری کارو کاری اور غیرقانونی جرگوں کے خاتمے کے لیے حکومتی دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ عوام نے پولیس کی فوری کارروائی کو سراہتے ہوئے ملوث وڈیروں کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment