سکھر: انسانیت شرمسار، والدین کے سامنے معصوم بچی کی عزت تار تار!  تھانے پہنچنے پر غریب خاندان کی تذلیل، انصاف کا خون

گھوٹکی/سکھر: انسانیت شرمسار، والدین کے سامنے معصوم بچی کی عزت تار تار!  تھانے پہنچنے پر غریب خاندان کی تذلیل، انصاف کا خون!

"آپ غریب لوگ ان بااثر لوگوں کے خلاف کیسے پڑ گئے...؟" — فریاد لے کر تھانے پہنچنے والے مظلوم ماں باپ کو قانون کے رکھوالوں کا شرمناک اور لرزہ خیز جواب!

👇 دل ہلا دینے والے واقعے کی رپورٹ:

سکھر/گھوٹکی (بیورو رپورٹ) سندھ کے ضلع گھوٹکی اور سکھر کے درمیانی علاقے میں ظلم و بربریت اور قانون کی بے حسی کا ایک ایسا ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، چار مبینہ بااثر اور مسلح ملزمان نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر ایک غریب خاندان کے گھر میں دھاوا بولا اور والدین کے سامنے ان کی معصوم بچی کو درندگی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ملزمان نے مبینہ طور پر مزاحمت کرنے پر بوڑھے والدین کو شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔



📌 قانون کے رکھوالوں کا شرمناک رویہ اور بے حسی:
واقعے کا سب سے زیادہ افسوسناک اور لرزہ خیز پہلو اس وقت سامنے آیا جب مظلوم خاندان اپنی لٹی ہوئی عزت کا انصاف مانگنے کے لیے قریبی پولیس اسٹیشن پہنچا۔
🔹 روتے بلکتے والدین نے جب پولیس حکام کے سامنے دہائی دی، تو قانون کے محافظوں نے داد رسی کرنے کے بجائے مظلوموں ہی کے زخموں پر نمک چھڑک دیا۔
🔹 ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے مبینہ طور پر یہ کہہ کر غریب خاندان کو تھانے سے نکال دیا کہ وہ بااثر افراد کے خلاف کارروائی کا سوچیں بھی نہ، اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک سنگین تھپڑ:
یہ دردناک واقعہ صرف ایک معصوم بچی پر ظلم نہیں، بلکہ پورے عدالتی اور پولیسی نظام کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ اگر معاشرے میں طاقتور کے جرم پر پردہ ڈالنا اور غریب کی فریاد پر اس کی تذلیل کرنا ہی دستور بن جائے، تو جنگل کے قانون اور انسانی معاشرے میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ انصاف کے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے حکام کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ مظلوم کی آہ جب عرشِ معلیٰ تک پہنچتی ہے تو بڑے بڑے تخت اور تاج ہل کر رہ جاتے ہیں۔

وقت خاموشی کا نہیں، آواز بلند کرنے کا ہے!
علاقے کی عوامی و سماجی تنظیموں، حقوقِ انسانی کے علمبرداروں اور شہریوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک بڑی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ وقت خاموش رہنے کا بالکل نہیں ہے۔ آج اگر ہم سب مل کر اس معصوم بچی اور اس کے مظلوم والدین کے لیے کھڑے نہ ہوئے، تو کل کسی اور کی گود اجڑ سکتی ہے اور کوئی دوسرا گھرانہ اس بربریت کا شکار ہو سکتا ہے۔ آئی جی سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لیں اور ملوث ملزمان سمیت غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو عبرت کا نشان بنائیں۔

ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!