بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کا اغوا اور قتل؛ چاغی کے علاقے سے لاشیں برآمد، آبائی علاقوں میں کہرام

 بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کا اغوا اور قتل؛ چاغی کے علاقے سے لاشیں برآمد، آبائی علاقوں میں کہرام

بلوچستان میں ایک بار پھر شناخت چیک کر کے بے گناہ محنت کشوں کو نشانہ بنانے کا انتہائی دلخراش اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پنجاب کے اضلاع سرگودھا اور چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں کو اغوا کے بعد بیدردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس اندوہناک واقعے کی تصدیق کے بعد مقتولین کے آبائی گھروں میں قیامت صغریٰ کے مناظر ہیں اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔

🔍 واقعے کے پسِ منظر اور مقتولین کی شناخت:
رپورٹس کے مطابق، جاں بحق ہونے والے محنت کشوں میں محمد وسیم (رہائشی: بھکھی کھوکھراں، نزد سیال موڑ، سرگودھا)، ظہیر (رہائشی: سلانوالی، سرگودھا) اور ان کے ساتھی افضل (رہائشی: چنیوٹ) شامل ہیں۔ یہ تینوں نوجوان بلوچستان میں سیندک کاپر پروجیکٹ پر کام کرنے والی ایک معدنیاتی کمپنی (MMC) میں بطور ورکر ملازمت کرتے تھے اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے وہاں مقیم تھے۔

📌 کوئٹہ دالبندین ہائی وے پر پیش آنے والا لرزہ خیز حادثہ:
ذرائع کے مطابق، یہ محنت کش چھٹی گزارنے کے بعد اپنے گھروں سے واپس بلوچستان اپنی ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔ وہ کوئٹہ سے بس میں سوار ہو کر کمپنی کی سائیٹ کی طرف روانہ ہوئے کہ راستے میں مسلح کالعدم تنظیم (BLA) کے کارندوں نے بس کو زبردستی روک لیا۔ بس میں سوار مسافروں کے شناختی کارڈز چیک کرنے کے بعد، پنجاب سے تعلق ہونے کی بنیاد پر ان تینوں ورکرز کو بس سے نیچے اتار کر نامعلوم مقام پر اغوا کر لیا گیا۔



📁 مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی اور تدفین:
اغوا کے اس واقعے کے بعد، 17 تاریخ کو ڈسٹرکٹ چاغی کے علاقے دالبندین میں ہائی وے کے قریب سے تینوں نوجوانوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئیں، جس کی تصدیق بعد میں حکام اور سوگوار اہلِ خانہ کی جانب سے کی گئی۔ آج مقتولین کے جسدِ خاکی ان کے آبائی علاقوں میں پہنچا دیے گئے ہیں، جہاں شدید سوگ کا سماں ہے۔

🏛️ عوامی حلقوں کا ردِعمل اور سیکیورٹی فورسز سے اپیل:
اس وحشیانہ واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ عوامی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔ عوام اور مقتولین کے لواحقین نے اعلیٰ سیکیورٹی اداروں اور حکومتِ وقت سے پرزور اپیل کی ہے کہ ان عناصر کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کیا جائے جو غریب اور مظلوم محنت کشوں کو نشانہ بنا کر ملک کے امن و امان کو تباہ کر رہے ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام مرحومین کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسپندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!