آج اس بوڑھی ماں کے آنسوؤں نے انسانیت کا جنازہ نکال دیا!
دل تھام کر ... کیا ہم واقعی زندہ معاشرے میں رہ رہے ہیں؟
آج اس بوڑھی ماں کے آنسوؤں نے انسانیت کا جنازہ نکال دیا! جس دور میں لوگ لاکھوں کے فون صرف شوق میں بدل دیتے ہیں، وہاں ایک ماں اپنے جگر گوشے کی زندگی کے لیے اپنا پرانا ٹوٹا ہوا موبائل بیچنے پر مجبور ہے... صرف اس لیے کہ اس کے بچے کو نمونیہ کے انجکشن لگ سکیں۔
وہ لرزتی آواز میں کہتی ہے:
"بیٹا! یہ موبائل رکھ لو، چاہے مجھے 200 روپے ہی دے دو... میرے بچے کی جان بچ جائے گی۔ میرے پاس دوائی کے پیسے نہیں، میں اتنی مجبور ہوں کہ اس کی بیٹری تک نہیں ڈلوا سکتی۔" 💔
💔 ذرا سوچیں! 💔
ایک ماں کے لیے اس سے بڑی قیامت کیا ہوگی کہ وہ اپنے بچے کو تڑپتا دیکھے اور جیب خالی ہو؟ حکمران عیاشیوں میں مگن ہیں اور غریب اپنے جگر گوشے کی سانسیں بچانے کے لیے اپنی آخری نشانی بھی بیچنے کو تیار ہے۔ نوالہ چھیننے والوں کو شاید اس تڑپ کا اندازہ کبھی نہ ہو پائے۔ 🥀
آپ سب سے التماس ہے:
اپنے اردگرد نظر رکھیں، شاید کوئی ایسی ہی مجبور ماں آپ کی تھوڑی سی توجہ کی منتظر ہو۔ انسانیت ابھی مری نہیں، اسے زندہ رکھنا ہمارا فرض ہے۔
نوٹ: یہ ویڈیو صرف آگاہی اور انسانی ہمدردی کے لیے شیئر کی جا رہی ہے تاکہ معاشرے کے تلخ حقائق سامنے آ سکیں۔ 🛑
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment