ڈی پی او آفس میں ہونے والا وہ واقعہ جس نے سب کو حیران کر دیا!
حافظ آباد: انصاف کا مطالبہ یا کہانی میں کوئی جھول؟ ڈی پی او آفس میں ہونے والا وہ واقعہ جس نے سب کو حیران کر دیا!
پولیس پیسے مانگ رہی ہے، ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں...
ایک خاتون کے ان سنگین الزامات نے سوشل میڈیا پر کھلبلی مچا دی، لیکن جب فائل کھلی تو حقائق کچھ اور ہی نکلے!
⚠️ اصل قصہ کیا ہے؟ (ضرور پڑھیں) 👇
دو ماہ پہلے مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون جب ڈی پی او حافظ آباد عاطف نذیر کے سامنے پیش ہوئیں، تو ان کا دعویٰ تھا کہ پولیس کارروائی نہیں کر رہی اور پرچہ درج کرنے کے لیے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ 🛑
مگر جیسے ہی ڈی پی او صاحب نے ڈی ایس پی سے انکوائری فائل منگوائی، تو کہانی کا رخ ہی بدل گیا!
🔍 فائل کے مطابق:
✅ ملزمان کو شروع میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن ثبوت نہ ہونے پر رہا کرنا پڑا۔
✅ خاتون نے ابتدائی اور اہم دنوں میں میڈیکل کروانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
✅ قانون کے مطابق، بغیر میڈیکل رپورٹ اور ٹھوس شواہد کے کسی کو حوالات میں بند نہیں رکھا جا سکتا۔
جب ڈی پی او صاحب نے خاتون سے کہا کہ: "آپ اب بھی میڈیکل کروائیں تاکہ ہم قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھا سکیں"، تو انصاف کی طالبہ جواب سنے بغیر ہی غصے میں دفتر سے باہر نکل گئیں! 🏃♀️💨
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے:
کیا واقعی دال میں کچھ کالا ہے؟ اگر زیادتی ہوئی تھی تو میڈیکل سے انکار کیوں؟ اور دو ماہ بعد اچانک یہ واویلا کیوں؟
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا یہ پولیس کو بدنام کرنے کی کوشش ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور محرک؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں! 👇💬
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment