بورے والا: دسویں کلاس کی طالبہ کے ساتھ رکشہ ڈرائیور کی درندگی، انسانیت لرز اٹھی!
بورے والا: دسویں کلاس کی طالبہ کے ساتھ رکشہ ڈرائیور کی درندگی، انسانیت لرز اٹھی!
پھول جیسی بچیاں اب کہاں محفوظ ہیں؟ بورے والا کی نواحی آبادی 'لاٹ بھٹیاں والی' میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔ تعلیمی ادارے جانے کے لیے جس رکشہ ڈرائیور پر بھروسہ کیا گیا، وہی بھیڑیوں کا روپ دھار گیا۔ بن بلائے اس محافظ نے چار ماہ تک معصوم طالبہ کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔
واقعے کی تفصیلات:
19 سالہ دسویں جماعت کی طالبہ روزانہ کی طرح اسکول گئی لیکن جب دیر تک گھر نہ پہنچی تو پریشان والدین نے تلاش شروع کی۔ طالبہ نیم بے ہوشی کی حالت میں ملی، جسے فوری اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہوش آنے پر طالبہ نے وہ ہولناک داستان سنائی جسے سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
دھمکیاں اور درندگی:
متاثرہ طالبہ کے مطابق، رکشہ ڈرائیور اسے قتل کی دھمکیاں دے کر خاموش کرواتا رہا اور چار ماہ تک زیادتی کرتا رہا۔ 🏚️ افسوسناک بات یہ ہے کہ زیادتی کے نتیجے میں طالبہ حاملہ ہو چکی ہے، جس کی تصدیق ایف آئی آر اور میڈیکل رپورٹ میں بھی ہو گئی ہے۔
پولیس ایکشن:
تھانہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے طالبہ کی والدہ کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے درندہ صفت رکشہ ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے۔ ⛓️ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
بچیوں کے والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور آمدورفت کے ذرائع پر کڑی نظر رکھیں۔ کیا ایسے درندوں کو سرعام سزا نہیں ملنی چاہیے؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ شعور بیدار ہو سکے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment