دل دہلا دینے والا واقعہ: معصوم عبداللہ کا قاتل اپنے انجام کو پہنچ گیا!
دل دہلا دینے والا واقعہ: معصوم عبداللہ کا قاتل اپنے انجام کو پہنچ گیا! 🚨
💔 "آپ کا دکھ بہت بڑا ہے، ہم آپ کا بچہ تو واپس نہیں لا سکتے لیکن آپ کا مجرم واصلِ جہنم ہو چکا ہے" 💔
یہ الفاظ تھے ڈی پی او حافظ آباد کے، جو تھانہ پنڈی بھٹیاں کی حدود میں درندگی کا نشانہ بننے والے معصوم محمد عبداللہ کے غمزدہ والدین سے تعزیت کے دوران کہے گئے۔
📍 واقعہ کی لرزہ خیز تفصیلات:
چند روز قبل مسجد میں اعلان ہوا کہ ایک گھر میں نیاز تقسیم ہو رہی ہے، بچے لنگر لینے پہنچ جائیں۔ معصوم عبداللہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ وہاں پہنچا۔ لنگر تقسیم کرنے والوں نے برتن لانے کا کہا تو بڑا بھائی گھر چلا گیا، جبکہ چھوٹا عبداللہ وہیں کھڑا رہا۔
جب بڑا بھائی برتن لے کر واپس آیا تو وہاں عبداللہ کا نام و نشان نہ تھا۔ گھر والوں نے پورا گاؤں چھان مارا، پولیس کو اطلاع دی گئی، لیکن رات کے اندھیرے میں ایک ویرانے سے عبداللہ کی بے لباس لاش ملی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سب کے کلیجے چاک کر دیے، معصوم کے ساتھ زیادتی ثابت ہو گئی۔
🔍 مجرم کی چالاکیاں اور انجام:
گاؤں والوں نے نوٹ کیا کہ فیصل آباد سے آیا ہوا ایک نوجوان، جو ڈیرے پر کام کرتا تھا، تلاشی کے دوران بار بار چھپ رہا تھا۔ شک ہونے پر پولیس کو بتایا گیا۔ اگلے ہی روز جب علاقے میں فائرنگ ہوئی تو پتہ چلا کہ ملزم اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ 🏍️💨
پولیس کو دیکھ کر ملزم کے ساتھیوں نے فائرنگ کر دی، جس کی زد میں آکر وہ سفاک درندہ خود اپنے ہی انجام کو پہنچ گیا اور واصلِ جہنم ہو گیا۔ 🔥
اللہ تعالیٰ معصوم عبداللہ کے درجات بلند فرمائے اور والدین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین! 🤲✨
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


Comments
Post a Comment