کراچی کی بے حسی یا ڈاکوؤں کی سفاکی؟ بیٹی کا جنازہ اٹھانے والے باپ کو ابدی نیند سلا دیا گیا!
کراچی کی بے حسی یا ڈاکوؤں کی سفاکی؟ بیٹی کا جنازہ اٹھانے والے باپ کو ابدی نیند سلا دیا گیا! 💔
شہرِ قائد سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ ایک باپ جس کی آنکھوں میں ابھی اپنی 6 ماہ کی پھول جیسی بیٹی کے بچھڑنے کے آنسو خشک نہیں ہوئے تھے، اسے لٹیروں نے گولیوں کا نشانہ بنا کر ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔
📍 واقعہ کی تفصیلات:
گھوٹکی کا رہائشی 27 سالہ منصور احمد، جو ناظم آباد میں محنت مزدوری کرتا تھا، اپنی 6 ماہ کی بیٹی کے انتقال کی خبر سن کر تڑپ اٹھا۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی راشد کے ساتھ سہراب گوٹھ بس اڈے پر کھڑا تھا تاکہ بیٹی کی میت کی تدفین کے لیے آبائی گاؤں پہنچ سکے۔ 🥀
کیا ہوا؟
ابھی یہ غمزدہ بھائی بس کے انتظار میں تھے کہ دو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے آ دبوچا۔ منصور، جو پہلے ہی بیٹی کے غم میں نڈھال اور ذہنی کرب میں تھا، ڈاکوؤں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو گیا اور تلخ کلامی ہوئی۔ سفاک ڈاکوؤں نے رحم کرنے کے بجائے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں منصور موقع پر دم توڑ گیا اور اس کا چھوٹا بھائی راشد زخمی ہو گیا۔
ایک ہنستا بستا گھر اجڑ گیا:
منصور چار بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور دو سال پہلے ہی اس کی شادی ہوئی تھی۔ جس باپ نے آج بیٹی کو لحد میں اتارنا تھا، آج اس کا اپنا جنازہ گھوٹکی روانہ کر دیا گیا۔ 💔
حکمرانو! آخر کب تک کراچی کی سڑکیں یوں ہی بے گناہوں کے خون سے رنگتی رہیں گی؟ کیا ایک غریب کا اپنی بیٹی کو دفنانے کے لیے جانا بھی جرم بن گیا ہے؟
دعا کریں کہ اللہ پاک منصور کو جوارِ رحمت میں جگہ دے، اس کے زخمی بھائی کو صحت دے اور سوگوار خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین! 🤲
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment