سہراب سائیکل فیکٹری مالکان اور شیخ نعمان قیصر کے درمیان دشمنی کی دردناک حقیقت!
سہراب سائیکل فیکٹری مالکان اور شیخ نعمان قیصر کے درمیان دشمنی کی دردناک حقیقت!
"میرا بھائی زندہ سلامت پاکستان گیا اور کفن میں واپس آیا"
سپین کے معروف بزنس مین شیخ نعمان قیصر کے بھائی عمران فردوس کی زبانی ایک ایسی کہانی جسے سن کر آپ کی روح کانپ جائے گی! 💔
📍 کہانی کا آغاز:
عمران فردوس بتاتے ہیں کہ سہراب سائیکل فیکٹری کے مالک "معاذ" اور اس کے گھر والوں نے منتیں کر کے ہماری بہن کا رشتہ لیا۔ 4 سالہ رفاقت میں معاذ نے مختلف بہانوں سے ہم سے 35 سے 40 کروڑ روپے لیے۔ ہم اپنی بہن کے گھر کی خاطر خاموشی سے سب برداشت کرتے رہے، لیکن اصل قیامت تب ٹوٹی جب معاذ نے صرف اس "جرم" میں ہماری بہن کو ہسپتال سے سیدھا میکے بھیج دیا کہ اس نے "دوسری بیٹی" کو جنم دیا تھا! 💔 کچھ ہی دنوں بعد طلاق نامہ اور سامان ٹرک میں لاد کر بھیج دیا گیا۔
📍 قتل کا الزام اور انتقام:
جب معاذ کا قتل ہوا، تو اس کی فیملی نے تمام تر الزامات ہم پر لگا دیے۔ ہم بیرونِ ملک تھے، مگر لاہور میں ہماری بوڑھی ماں اور طلاق یافتہ بہن کو تھانے میں بند کر کے ذلیل کیا گیا۔ پِھر شیخ نعمان قیصر نے ہمت نہ ہاری، وہ قانونی جنگ لڑنے پاکستان پہنچا تاکہ اپنی ماں اور بہن کو انصاف دلا سکے۔
📍 عدالت سے بریت اور مبینہ مقابلہ:
عدالت نے تمام شواہد دیکھنے کے بعد نعمان قیصر کو باعزت بری کر دیا، مگر خدشہ وہی ہوا جس کا ڈر تھا! نعمان کے وکیلوں نے پہلے ہی عدالت کو بتایا تھا کہ اسے پولیس مقابلے میں مار دیا جائے گا۔ عدالت کے حکم کے باوجود، رہائی کے فوراً بعد نعمان قیصر کو ایک "مبینہ پولیس مقابلے" میں پار کر دیا گیا۔
📍 بھائی کا غم زدہ پیغام:
عمران فردوس کہتے ہیں: "پاکستان اب انصاف کی جگہ نہیں بلکہ ظلم کی آماجگاہ اور قتل گاہ بن چکا ہے۔ میرا بھائی پاکستان انصاف لینے گیا تھا مگر وہ کفن میں بارسلونا واپس آیا۔ خدا کسی دشمن کو بھی ایسے پاکستان نہ لے جائے!"
کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جان و مال محفوظ ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں! 👇🗨️
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment