افسوسناک خبر: واسا ملازمین کی زندگیوں سے کھلواڑ ختم نہ ہو سکا!
افسوسناک خبر: واسا ملازمین کی زندگیوں سے کھلواڑ ختم نہ ہو سکا!
فیصل آباد: ستارہ کالونی، بھٹہ چوک نواباں والا میں آج صبح انسانیت دم توڑ گئی 💔۔ واسا ملازم شبیر مسیح اور ان کے ساتھی سانول مسیح کو بغیر کسی حفاظتی کٹ اور آلات کے گٹر میں اتار دیا گیا۔ 🛑 زہریلی گیس کے باعث شبیر مسیح موقع پر ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے ، جبکہ سانول مسیح زندگی اور موت کی جنگ لڑتے ہوئے ہسپتال منتقل کر دیے گئے۔
محکمہ واسا کی یہ مجرمانہ غفلت کب تک چلے گی؟ کیا غریب کی جان اتنی سستی ہے؟ سیوریج لائنوں میں کام کرنے والوں کے لیے نہ آکسیجن ماسک ہے اور نہ ہی حفاظتی کٹس۔ افسر شاہی اے سی والے کمروں میں سکون سے بیٹھی ہے جبکہ غریب مزدور گٹروں میں اپنی جان کا نذرانہ دے رہے ہیں۔
پاکستان لیبر قومی موومنٹ اور یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کا بھرپور مطالبہ: 👇
✅ شبیر مسیح کے لواحقین کو فوری قانونی معاوضہ دیا جائے۔ 💸
✅ سیوریج ملازمین کے لیے ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ 🛡️
✅ غفلت کے ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے۔ ⚖️
اگر فوری انصاف نہ ملا تو حکومتِ پنجاب کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا! 📢💪
اس آواز کو اتنا پھیلائیں کہ حکامِ بالا کے کانوں تک پہنچ جائے! 🙏🔄
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment