سوشل میڈیا کے نوسربازوں کا ایک اور بڑا وار؛ کینیڈا ویزا کے جھانسے میں خاتون 35 لاکھ سے محروم....
سوشل میڈیا کے نوسربازوں کا ایک اور بڑا وار؛ کینیڈا ویزا کے جھانسے میں خاتون 35 لاکھ سے محروم، گھر بکنے کی نوبت آگئی، قانونی چارہ جوئی شروع
لاہور(خصوصی رپورٹ) : سوشل میڈیا پر بیرونِ ملک ملازمتوں اور ویزوں کے نام پر معصوم شہریوں کو لوٹنے والے منظم نوسرباز گروہ سرگرم ہیں۔ ایک اور افسوسناک واقعے میں ایک بے بس خاتون اپنے شوہر کو کینیڈا بھجوانے کے چکر میں اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی اور ادھار لی گئی خطیر رقم سے محروم ہو گئی ہیں۔ متاثرہ خاتون نے انصاف اور قانونی مدد کے لیے معروف قانون دان ایڈووکیٹ فہیم کھوکھر سے رابطہ کر لیا ہے۔
🔍 ویزا فراڈ کا طریقہ کار اور اشتہار کا جھانسا:
تفصیلات کے مطابق، متاثرہ خاتون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کینیڈا کے ویزوں اور امیگریشن سے متعلق ایک پرکشش اشتہار دیکھا تھا۔ نوسربازوں نے خاتون کو جھوٹے دلاسوں اور سنہرے خوابوں کے جال میں اس طرح پھنسایا کہ انہوں نے اپنے شوہر کے مستقبل کی خاطر مختلف ذرائع سے قرض لے کر اور اپنی عمر بھر کی جمع پونجی ملا کر کل 35 لاکھ روپے کی خطیر رقم مذکورہ ایجنٹ کے حوالے کر دی۔
🔒 رقم وصولی کے بعد روپوش؛ ٹرانزیکشن کے ثبوت موجود:
ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی نوسرباز فراڈیے نے 35 لاکھ روپے کی رقم وصول کی، اس نے فوری طور پر اپنے تمام موبائل نمبرز بند کر دیے اور روپوش ہو گیا۔ متاثرہ خاتون کے پاس رقم کی منتقلی (ٹرانزیکشن) اور نوسربازوں سے رابطوں کے تمام ٹھوس دستاویزی شواہد اور ثبوت موجود ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ قرض خواہوں کے دباؤ کے باعث اس خاتون کو اپنے معصوم بچوں کے سر چھپانے کا واحد سہارا، یعنی اپنا چھوٹا سا مکان بھی بیچنا پڑ رہا ہے۔
قانونی کارروائی اور سماجی حلقوں کا ردِعمل:
یہ معاملہ جہاں ریاست اور سائبر کرائم کے اداروں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، وہیں اب ایڈووکیٹ فہیم کھوکھر کی جانب سے اس فراڈیے کو قانون کے شکنجے میں لانے اور رقم کی واپسی کے لیے ایف آئی اے (FIA) اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں کے ذریعے سخت قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے دندناتے ہوئے نوسربازوں کو فوری گرفتار کر کے عبرت کا نشانہ بنایا جائے تاکہ مظلوم خاندان سڑک پر آنے سے بچ سکے۔
پبلک الرٹ اور اہم ایڈوائزری:
عوام الناس کے لیے یہ واقعہ ایک بہت بڑا سبق ہے۔ سوشل میڈیا پر نظر آنے والے ویزا کنسلٹنسی، نوکریوں یا آن لائن انویسٹمنٹ کے چمکدار اشتہارات پر ہرگز اندھا اعتماد نہ کریں۔ کسی بھی نامعلوم شخص یا غیر رجسٹرڈ ایجنسی کو رقم دینے سے پہلے اس کے لائسنس اور قانونی حیثیت کی تصدیق لازمی کریں۔ آپ کی ایک چھوٹی سی لاپرواہی آپ کے پورے خاندان کو برباد کر سکتی ہے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment