بیرون ملک جانے والے معصوم شہریوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے والا کالی بھیڑوں کا گروہ بے نقاب!
بیرون ملک جانے والے معصوم شہریوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے والا کالی بھیڑوں کا گروہ بے نقاب!
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی بڑی کارروائی، پروٹیکٹر آفس لاہور کے 4 سرکاری ملازمین دھر لیے گئے!
شہریوں کو بلیک میل کر کے لاکھوں روپے بٹورنے کا سنسنی خیز انکشاف! 👮♂️ تفتیش شروع۔
لاہور (خصوصی کرائم رپورٹر): بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانی شہریوں کو دفتری تاخیر اور کاغذی کارروائیوں کے جال میں پھنسا کر بلیک میل کرنے اور بھاری رشوت وصول کرنے والا ایک منظم مافیا آخر کار قانون کے شکنجے میں آ ہی گیا ہے۔
ایف آئی اے (FIA) اینٹی کرپشن سرکل نے ایک کامیاب اور خفیہ کارروائی کے دوران پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس آفس لاہور کے چار ایسے ملازمین کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے جو ملکی قانون اور اپنے عہدوں کا مذاق اڑا رہے تھے۔ پچھلے کافی عرصے سے اس محکمے کے خلاف شکایات موصول ہو رہی تھیں، جس پر اینٹی کرپشن سرکل نے سائنسی بنیادوں پر جال بچھایا اور مجرموں کو دھر لیا۔
📌 جان بوجھ کر فائلوں میں تاخیر اور بلیک میلنگ کا گھناؤنا کھیل:
ذرائع کے مطابق، گرفتار ہونے والے سرکاری ملازمین نے دفتر کے اندر ایک باقاعدہ نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔ جو شہری بھی قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کے لیے پروٹیکٹر کلیئرنس کے لیے آتا، یہ ملازمین اس کی فائل پر مختلف اعتراضات لگا کر یا جان بوجھ کر کام میں غیر ضروری تاخیر کر کے اسے ذہنی کرب میں مبتلا کرتے تھے۔ جب مسافر کی فلائٹ کا وقت قریب آ جاتا اور وہ شدید دباؤ کا شکار ہو جاتا، تو یہ گروہ اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے بلیک میل کرتا اور کام جلدی کروانے کے عوض خطیر رقم کا مطالبہ کرتا تھا۔ لوٹ مار کا یہ سلسلہ طویل عرصے سے پسِ پردہ جاری تھا جس سے کئی غریب شہریوں کے ویزے اور ٹکٹ ضائع ہونے کا خطرہ رہتا تھا۔
📌 ایک لاکھ روپے رشوت کی وصولی اور ایف آئی اے کا چھاپہ:
حکام کے مطابق، حالیہ کارروائی ایک شہری کی شکایت پر عمل میں لائی گئی جس سے اس گروہ نے اس کا قانونی کام کرنے کے عوض ایک لاکھ روپے رشوت طلب کی تھی۔ شہری نے جب ایف آئی اے سے رابطہ کیا تو اینٹی کرپشن سرکل نے فوری حکمتِ عملی تیار کی اور جیسے ہی ملزمان نے شہری سے ایک لاکھ روپے کی رشوت وصول کی، قانون کے رکھوالوں نے موقع پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کر لیا اور رشوت کی رقم برآمد کر لی۔
چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اس کرپشن نیٹ ورک میں دفتری افسران سے لے کر نچلے درجے کا عملہ تک برابر کا شریک تھا، جو آپس میں مل کر یہ مکروہ دھندہ چلا رہے تھے۔
📌 گرفتار ملازمین کی تفصیلات اور اندرونی نیٹ ورک:
ایف آئی اے حکام کے مطابق، گرفتار کیے گئے ملزمان میں درج ذیل ملازمین شامل ہیں:
ڈی ای او (Data Entry Operator)جو ڈیجیٹل ریکارڈ اور فائلوں میں ہیر پھیر یا جان بوجھ کر تاخیر کے لیے ڈیٹا ہینڈل کرتا تھا۔ 💻
ایل ڈی سی (Lower Division Clerk):
جو کاغذی کارروائی اور کلرک لیول پر فائلوں کو روکنے کا ذمہ دار تھا۔ 📝
چوکیدار اور سینیٹری ورکر:
جو مبینہ طور پر باہر موجود ایجنٹوں اور مجبُور شہریوں سے ڈیلنگ اور رقم کی منتقلی کے لیے بطور "سہولت کار" کام کر رہے تھے۔ 👥
ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف اینٹی کرپشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، اور یہ پتا لگایا جا رہا ہے کہ اس گروہ کے پیچھے محکمے کے کون سے بڑے افسران شامل ہیں یا یہ رقم اوپر تک کہاں کہاں منتقل ہوتی تھی۔ یہ کارروائی ان تمام کرپٹ عناصر کے لیے ایک سخت پیغام ہے جو غریب اور محنت کش شہریوں کی کمائی پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment