گجرات پولیس کا کانسٹیبل 3 کلو چرس سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار، محکمہ پولیس کے ماتھے پر داغ!

 محافظ ہی بنے منشیات کے سوداگر؛ گجرات پولیس کا کانسٹیبل 3 کلو چرس سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار، محکمہ پولیس کے ماتھے پر داغ!

گجرات (کرائم رپورٹر ):
گجرات پولیس کا اپنا ہی کانسٹیبل منشیات سپلائی کرنے والے ایک بڑے نیٹ ورک کا سرغنہ نکلا۔ کانسٹیبل محمد عمران (پیٹی نمبر 3500/C) کو تقریباً 3 کلو گرام اعلیٰ معیار کی چرس اسمگل کرتے ہوئے موقع پر رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وردی کی آڑ میں چھپے اس کالی بھیڑ کی گرفتاری نے جہاں پولیس فورس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، وہاں عوام میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوانِ بالا اور اعلیٰ حکام سے سخت ترین کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

📌 کالی بھیڑیں اور نسلوں کی بربادی کا گھناؤنا کھیل:
تفصیلات کے مطابق، ملزم کانسٹیبل طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی شناخت کا فائدہ اٹھا کر ناصرف خود منشیات کی نقل و حمل میں ملوث تھا بلکہ علاقے میں منشیات کے بڑے سپلائرز کو تحفظ فراہم کر رہا تھا۔ عوامی حلقوں اور صحافتی برادری کا کہنا ہے کہ محکمہ میں موجود ایسی کالی بھیڑیں ہماری نوجوان نسل کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ اگرچہ ڈی پی او گجرات نے فوری ایکشن لیتے ہوئے کانسٹیبل محمد عمران کو معطل کر کے انکوائری کا حکم دے دیا ہے، لیکن عوامی مطالبہ ہے کہ محض معطلی کافی نہیں، بلکہ اس پورے منظم ڈرگ مافیا اور ریکٹ کی جڑیں کاٹنا ناگزیر ہو چکا ہے۔



وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے گرینڈ کلین اپ آپریشن کی اپیل:
اس سنگین واقعے کے بعد کرائم رپورٹر راجہ بابر حسین اور سول سوسائٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے پرزور گزارش کی گئی ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل کیس کی خود براہِ راست مانیٹرنگ کریں۔ گجرات پولیس لائنز سمیت پورے پنجاب کے اضلاع میں موجود ان کالی بھیڑوں اور کرپٹ عناصر کے خلاف ایک ہنگامی اور بے رحم "گرینڈ کلین اپ آپریشن" شروع کیا جانا چاہیے تاکہ قانون کی آڑ میں چھپے ان مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔

ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!