پنجاب کی بہادر بیٹی سدرہ سعید بندیشہ کی اپنے اکلوتے بھائی کے حوالے سے جذباتی اور عزم سے بھرپور گفتگو: ایک بہن کا انصاف کے لیے سفر!
پنجاب کی بہادر بیٹی سدرہ سعید بندیشہ کی اپنے اکلوتے بھائی کے حوالے سے جذباتی اور عزم سے بھرپور گفتگو: ایک بہن کا انصاف کے لیے سفر!
لاہور / فیصل آباد (ویب ڈیسک): پنجاب سے تعلق رکھنے والی بہادر خاتون سدرہ سعید بندیشہ نے اپنے اکلوتے بھائی عبدالرحمان کے حوالے سے ماضی کی یادوں، اس کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار حادثے اور موجودہ قانونی صورتحال پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں ایک بہن کا اپنے بھائی کے لیے گہرا دکھ، محبت اور انصاف کے حصول کا پکا عزم نمایاں ہے۔
📌 "ساتویں کلاس سے بھائی کی محافظ ہوں": بچپن کی یادیں
سدرہ سعید بندیشہ کا کہنا تھا کہ وہ، ان کی بڑی بہن اور ان کا بھائی عبدالرحمان ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ انہوں نے بتایا: ساتویں جماعت سے ہی میری یہ عادت تھی کہ عبدالرحمان کو جس نے بھی تنگ کیا، میں نے اس کا ہمیشہ سامنا کیا۔ اسکول میں بریک ٹائم کے دوران جب بھی وہ روتا ہوا میرے پاس آتا اور کسی کی شکایت کرتا، تو میں چھٹی کے بعد اس معاملے کو خود حل کرتی تھی۔
📌 وہ دن ہمارے لیے قیامت سے کم نہ تھا:
ناخوشگوار حادثے کا صدمہ
اپنے بھائی کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک اور جان لیوا حادثے کا ذکر کرتے ہوئے سدرہ شدید جذباتی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا: جس روز عبدالرحمان اس دنیا سے گیا، وہ دن میرے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ جب ہمیں اس واقعے کی اطلاع ملی تو ایسا لگا جیسے آسمان گر گیا ہو اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا ہو۔ ہم اسے ہمیشہ دعاؤں کے حصار میں رکھتے تھے اور ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔
📌 تھانے کا پہلا تجربہ اور قانونی کارروائی:
سدرہ نے اس تلخ رات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ زندگی میں پہلی بار تھانے گئی تھیں اور انہیں ایف آئی آر (FIR) درج کرانے کے قانونی طریقہ کار کا بالکل علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا: میں ساری رات تھانے میں اپنے بھائی کے لیے روتی رہی۔ جو کچھ بھی پولیس انتظامیہ نے مجھے لکھ کر دیا، میں نے اس پر دستخط کیے اور اپنے بھائی کی میت لے کر گھر آ گئی۔ عبدالرحمان ہمارا اکلوتا بھائی اور واحد سہارا تھا، جسے دیکھ کر ہم جیتے تھے۔ ہمارے اس کے بارے میں بہت سے خواب تھے جو سب ختم ہو گئے۔
📌 انصاف کا عزم اور آئندہ کے فیصلے:
سدرہ سعید نے واضح کیا کہ ان کے بھائی کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں تھا اور وہ بے گناہ تھا۔ انہوں نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں قانون کے دائرے میں رہ کر آخری وقت تک انصاف کی جنگ لڑیں گی اور ان کا یہ قانونی و اخلاقی موقف کسی بھی صورت تبدیل نہیں ہوگا۔
📌 زندگی کا نیا سفر اور مستقبل کے پراجیکٹس:
اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر مکمل یقین کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کچھ اہم کاموں میں مصروف تھیں، لیکن اب امید ہے کہ وہ جلد ہی شادی کے بندھن میں بندھ کر اپنی زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ باقی تمام معاملات اللہ کی رضا پر منحصر ہیں۔

Comments
Post a Comment