اسلام آباد ایئرپورٹ: شوہر سے ملنے عمان جانے والی خاتون کا ہائی پروفائل ویزا فراڈ ناکام، ایف آئی اے نے آف لوڈ کر دیا!

 اسلام آباد ایئرپورٹ: شوہر سے ملنے عمان جانے والی خاتون کا ہائی پروفائل ویزا فراڈ ناکام، ایف آئی اے نے آف لوڈ کر دیا!

اسلام آباد (ویب ڈیسک): اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن نے پیشہ ورانہ مہارت اور ہوشیاری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے دستاویزات میں جعل سازی کے ذریعے بیرونِ ملک جانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ عمان جانے کی خواہشمند خاتون مسافر کے قبضے سے بیک وقت دو مختلف نکاح نامے برآمد ہونے پر انہیں حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

📌 کارروائی کی تفصیلات اور گرفتاری:

ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق، مسافر خاتون جن کی شناخت 'شابانہ بی بی' کے نام سے ہوئی ہے، عمان جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچیں۔ انہوں نے امیگریشن کاؤنٹر پر فیملی جوائننگ ویزا (Relative Joining Visa) پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ عمان میں مقیم اپنے شوہر کے پاس جا رہی ہیں۔ تاہم، امیگریشن افسران نے جب ان کے سفری دستاویزات اور میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی تو وہ پہلی ہی نظر میں جعلی معلوم ہوا۔



موبائل فون سے دوسرا نکاح نامہ برآمد:

شک کی بنیاد پر ایف آئی اے حکام نے کارروائی آگے بڑھائی اور جب خاتون کے موبائل فون کا تکنیکی معائنہ کیا گیا تو اس میں سے ایک اور مختلف نکاح نامہ برآمد ہو گیا۔ ایک ہی وقت میں دو الگ الگ نکاح ناموں کی موجودگی اور ازدواجی حیثیت کے اس واضح تضاد نے ویزا فراڈ کے پورے معاملے کو بے نقاب کر دیا۔

ابتدائی تفتیش اور قانونی کارروائی:

حکام کی ابتدائی تفتیش کے مطابق، مذکورہ خاتون کا ویزا اور دونوں سفری دستاویزات مشکوک اور غیر قانونی طریقے سے تیار کروائی گئی تھیں۔ یہ معاملہ بظاہر ویزا فراڈ اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایف آئی اے امیگریشن نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزمہ شابانہ بی بی کو پرواز سے آف لوڈ کر دیا اور انہیں مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) اسلام آباد کے حوالے کر دیا ہے۔

🛡️ تحقیقات کا دائرہ وسیع:

ایف آئی اے حکام نے ملزمہ کا موبائل فون، پاسپورٹ، مبینہ جعلی ویزا اور دیگر تمام مشکوک دستاویزات اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس جعل سازی کے پیچھے متحرک ایجنٹس اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کی مکمل سرکوبی کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے ان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!