65 سال بغیر نہائے زندگی گزارنے والا دنیا کا منفرد ترین انسان، زندگی کی پہلی غسل کے بعد دم توڑ گیا.....
65 سال بغیر نہائے زندگی گزارنے والا دنیا کا منفرد ترین انسان، زندگی کی پہلی غسل کے بعد دم توڑ گیا! 😮🇮🇷
تہران (ویب ڈیسک) ایران کے صوبہ کرمانشاہ سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے معمر بزرگ کی حیرت انگیز کہانی جس نے دنیا بھر کے طبی ماہرین اور سائنسدانوں کو حیران کر دیا۔ 'عمو حاجی' کے نام سے مشہور اس بزرگ کو دنیا کا انوکھا ترین انسان سمجھا جاتا تھا، جنہوں نے مسلسل ساڑھے چھ دہائیوں (65 سال) تک پانی اور صابن کو ہاتھ نہیں لگایا۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ صفائی ستھرائی اور پانی انہیں بیمار کر سکتے ہیں، اور حیرت انگیز طور پر ان کا یہ اندیشہ سچ ثابت ہوا۔
صحرائی زندگی اور غیر معمولی خوراک:
عمو حاجی ایران کے ایک ویران ریگستانی علاقے میں مٹی کے ایک گڑھے میں اکیلے زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کا طرزِ زندگی عام انسانوں سے بالکل مختلف تھا۔
وہ خوراک کے معاملے میں بھی روایتی چیزوں کے بجائے انتہائی غیر معمولی اشیاء کا انتخاب کرتے تھے اور سگریٹ نوشی کے بھی شدید عادی تھے۔ سگریٹ کی عدم دستیابی پر وہ متبادل کے طور پر خشک قدرتی فضلے کا استعمال کرتے تھے، جو کسی بھی عام انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ 🏜️🚬
🔬 میڈیکل سائنس کے لیے ایک بڑا معمہ:
مختلف قسم کے جراثیم اور کثافت کے باوجود عمو حاجی نے 94 سال کی طویل عمر پائی۔ تہران یونیورسٹی کے ماہرینِ صحت نے جب ان کے تفصیلی طبی معائنہ اور ٹیسٹ کیے، تو نتائج نے سب کو دنگ کر دیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق، دہائیوں تک جراثیم کے درمیان رہنے کی وجہ سے ان کا مدافعتی نظام (Immune System) غیر معمولی طور پر مضبوط ہو چکا تھا اور ان کے جسم نے خود ہی مہلک جراثیم کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کر لی تھیں۔
غسل اور انتقال کا عجیب اتفاق:
عمو حاجی کے بارے میں سب سے عجیب بات ان کا نفسیاتی خوف (Phobia) تھا، وہ پانی سے شدید ڈرتے تھے۔ اکتوبر 2022 میں گاؤں کے کچھ لوگوں نے ہمدردی کے تحت انہیں زبردستی غسل کروایا۔ تاہم، طویل عرصے بعد پانی اور صابن کا استعمال ان کے جسم کے لیے سازگار ثابت نہ ہوا اور وہ اس کے کچھ ہی عرصے بعد علیل ہو کر وفات پا گئے۔ کچھ ماہرین اسے شدید نفسیاتی صدمہ قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ بیرونی ماحول سے اچانک توازن بگڑنے کی وجہ سے ان کا جسم ردِعمل برداشت نہ کر سکا۔
سائنسدانوں کے لیے اب بھی یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ انسانی جسم ماحول کے مطابق خود کو کس حد تک ڈھال سکتا ہے اور کیا حد سے زیادہ صفائی ہمیں جراثیم کے خلاف کمزور تو نہیں کر رہی؟

Comments
Post a Comment