کراچی: نوکری کا جھانسہ دے کر خواتین کو نشانہ بنانے والا گروہ بے نقاب، مرکزی ملزم سمیت 4 گرفتار!
کراچی: نوکری کا جھانسہ دے کر خواتین کو نشانہ بنانے والا گروہ بے نقاب، مرکزی ملزم سمیت 4 گرفتار!
کراچی: ملیر پولیس نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے معصوم لڑکیوں کو روزگار کا جھانسہ دے کر بلیک میل اور مجرمانہ سرگرمیوں کا نشانہ بنانے والے منظم گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن ماجدہ پروین کی سربراہی میں کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم عامر علی کو اس کے تین دیگر ساتھیوں سمیت قانون کے شکنجے میں لایا جا چکا ہے۔
📌 کارروائی کی تفصیلات اور گرفتاریاں:
پولیس کی خصوصی ٹیم نے جدید تکنیکی طریقہ کار اور خفیہ معلومات کا استعمال کرتے ہوئے اس نیٹ ورک کے خلاف ایک منظم آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران گروہ کے مرکزی کارندہ 'عامر علی' کے ساتھ اس کے معاونین محمد زین، نعمان خان اور سعید کو بھی حراست میں لے کر تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
⚠️ ملزمان کا طریقہ واردات (Modus Operandi):
ابتدائی تحقیقات اور ملزمان کے اعترافِ جرم کے مطابق، یہ گروہ سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا۔ ملزمان مختلف کمپنیوں کے نام سے نوکریوں کے فرضی اشتہارات پوسٹ کرتے اور روزگار کی تلاش میں بھٹکنے والی معصوم خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے تھے۔ دورانِ تفتیش مرکزی ملزم عامر علی نے متعدد لڑکیوں کو جھانسہ دے کر ان کے ساتھ مجرمانہ فعل کی ہولناک تصدیق کی ہے۔
⚖️ سابقہ مجرمانہ ریکارڈ اور شناخت پریڈ:
ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق، مرکزی ملزم عامر علی کا پرانا مجرمانہ ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے اور وہ کراچی کے مختلف تھانوں بشمول ابراہیم حیدری، میمن گوٹھ، سعود آباد اور عوامی کالونی میں ڈکیتی سمیت دیگر سنگین مقدمات میں قانون کو مطلوب تھا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ہونے والی قانونی شناخت پریڈ کے دوران ایک متاثرہ لڑکی نے بلا خوف و خطر ملزم کو شناخت بھی کر لیا ہے۔
سینیئر پولیس قیادت کا مؤقف:
اس اہم کامیابی پر بات کرتے ہوئے تفتیشی ٹیم کا کہنا تھا کہ:
معاشرے میں ایسے ناسور اور معصوم شہریوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے والے عناصر کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ خواتین کا تحفظ اور جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور ان ملزمان کو عدالت سے سخت ترین قانونی سزا دلوائی جائے گی۔
🛑 نوکری کے انٹرویو کے لیے جانے والی خواتین کے لیے اہم احتیاطی تدابیر!
سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے فراڈ اور ایسے گروہوں سے محفوظ رہنے کے لیے ان باتوں پر لازمی عمل کریں:
1️⃣ کمپنی کی مکمل تصدیق: گوگل، فیس بک پیج، آفیشل ویب سائٹ اور دفتر کے اصل پتے کی اچھی طرح جانچ پڑتال کریں۔ 🌐
2️⃣ پبلک یا باقاعدہ آفس کا انتخاب: انٹرویو ہمیشہ کسی کمرشل ایریا یا باقاعدہ دفتر میں ہونا چاہیے۔ کسی کے ذاتی گھر، فلیٹ، ہوٹل یا سنسان جگہ پر ہرگز نہ جائیں۔ 🏢📍
3️⃣ اکیلے جانے سے گریز: انٹرویو پر جاتے وقت اپنے ساتھ کسی قابلِ اعتماد فیملی ممبر، بھائی یا دوست کو لازمی لے کر جائیں۔
4️⃣ لائیو لوکیشن کا استعمال: گھر سے نکلتے وقت اپنے اہلخانہ کو انٹرویو کی جگہ کا پتہ، فون نمبر دیں اور واٹس ایپ پر اپنی لائیو لوکیشن (Live Location) لازمی شیئر رکھیں۔
5️⃣ اوقاتِ کار کا دھیان: صرف دن کے دفتری اوقات میں ہی انٹرویو دیں۔ شام ڈھلنے یا رات کے وقت بلانے والی کمپنیوں سے دور رہیں۔
6️⃣ غیر حقیقت پسندانہ آفرز: اگر کوئی کمپنی بغیر کسی تجربے یا تعلیمی معیار کے غیر معمولی طور پر زیادہ تنخواہ کی آفر کرے، تو الرٹ ہو جائیں۔
7️⃣ ہنگامی مدد: اگر انٹرویو کے دوران ماحول مشکوک یا غیر محفوظ لگے، تو فوراً وہاں سے نکلیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوراً پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کریں۔

Comments
Post a Comment