کاہنہ قتل کیس کا ڈراپ سین: اغوا کا ڈرامہ رچانے والا سفاک شوہر ہی مہروش بی بی کا اصل قاتل نکلا، پولیس کا بڑا انکشاف!
کاہنہ قتل کیس کا ڈراپ سین: اغوا کا ڈرامہ رچانے والا سفاک شوہر ہی مہروش بی بی کا اصل قاتل نکلا، پولیس کا بڑا انکشاف!
کاہنہ/لاہور (خصوصی نمائندہ): لاہور کے علاقے کاہنہ میں چند روز قبل قتل ہونے والی نوجوان لڑکی "مہروش بی بی" کے اندھے قتل کا معمہ حل ہو گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے مقتولہ کے شوہر کو ہی حراست میں لے لیا ہے، جس نے اعترافِ جرم بھی کر لیا ہے۔
📌 گھریلو ناچاکی، قتل اور اغوا کا خوفناک ڈرامہ:
تفصیلات کے مطابق، ملزم اور اس کی اہلیہ مہروش بی بی کے درمیان طویل عرصے سے گھریلو ناچاکی اور تلخ کلامی چل رہی تھی۔ واقعے کی رات ملزم نے بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوئی ہوئی بیوی کے منہ پر تکیہ رکھ کر اس کا دم گھونٹ دیا۔ قتل کی لرزہ خیز واردات چھپانے کے لیے ملزم نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھایا اور لاش کو موٹرسائیکل پر لاد کر "روہی نالہ" میں پھینک دیا۔ اپنے آپ کو قانون کی گرفت سے بچانے کے لیے ملزم نے خود متعلقہ تھانے جا کر نامعلوم افراد کے خلاف بیوی کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کروا دیا تھا۔
🔎 ڈی آئی جی کا نوٹس اور تفتیشی ٹیم کی کارروائی:
اس اندھے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے فوری احکامات جاری کیے۔ جس پر ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن شاہد نواز کی زیرِ نگرانی انچارج انویسٹی گیشن تھانہ کاہنہ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ ایک خصوصی آپریشن شروع کیا۔ پولیس نے ہیومن انٹیلیجنس اور جدید ترین سائنسی و ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شک کی بنا پر شوہر کو شاملِ تفتیش کیا، جس نے کڑی پوچھ گچھ کے بعد اپنا پورا جرم اگل دیا۔
🏛️ پولیس حکام کا موقف اور سخت سزا کا عزم:
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں پر تشدد یا ان کا قتل کرنے والے درندے کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ پولیس پراسیکیوشن پارٹنرشپ کے ذریعے ملزم کے خلاف مضبوط چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ اسے قرار واقعی سزا دلائی جا سکے۔ بہترین کارکردگی اور اندھے قتل کا سراغ لگانے پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی جانب سے تفتیشی ٹیم کے لیے نقد انعامات اور تعریفی اسناد کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔
نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment